مظفرگڑھ: اغوا کیس میں میڈیکل کرانے کےبہانے بلاکر تھانے میں خاتون سے مبینہ جنسی زیادتی، اہلکار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ میں اغوا کے مقدمے کے سلسلے میں میڈیکل کرانے کے بہانے تھانے بلاکر خاتون سے مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا جب کہ گھناؤنے فعل میں ملوث اہلکار کو گرفتار کرلیا گیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق مظفرگڑھ کے تھانہ صدر میں خاتون سے مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔
پولیس حکام نے کہا کہ خاتون کو اپنے اغوا کے مقدمے میں میڈیکل کرانے کے لیے تھانے بلایا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ خاتون نے الزام لگایا کہ روزنامچہ تحریر کرنے والے اہلکار نے اے ایس آئی کے کمرے میں زیادتی کی۔
پولیس کے مطابق ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور تحقیقات کے بعد حقائق سامنے آئیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
اغوا برائے تاوان کیس میں پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے اور ان کے وکیل نے عدالت سے ضمانت واپس لینے کی درخواست کی ہے۔
کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں اداکار منیب بٹ کے خلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ان کے وکیل نے ضمانت واپس لینے کی درخواست دائر کر دی۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنے چالان میں منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا ضمانت کی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مدعی محمد متعال کو اغوا کر کے 24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر سامان لوٹ لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ منیب بٹ پر ملزمان کو مری میں رہائش دلوانے کا الزام تھا، تاہم تفتیش مکمل ہونے کے بعد انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ایک پولیس اہلکار غالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے 23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو اغوا کیا اور کرپٹو کرنسی سمیت دیگر قیمتی سامان چھیننے کے بعد انہیں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ دیا تھا۔