data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مظفرگڑھ : ایک افسوسناک واقعے میں تھانہ صدر مظفرگڑھ میں اغواء کیس میں میڈیکل لیٹر لینے کے لیے آنے والی خاتون مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بن گئی، متاثرہ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ تھانے میں موجود ایک پرائیویٹ اہلکار نے اُسے تنہا پا کر ایک کمرے میں لے جا کر زیادتی کی۔

پولیس حکام کے مطابق خاتون کو اُس کے اغواء کے مقدمے کے سلسلے میں طبی معائنے کے لیے تھانے بلایا گیا تھا، جہاں یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مذکورہ پرائیویٹ اہلکار کو حراست میں لے لیا گیا اور اُس کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

پولیس ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے اور تھانے کی حدود میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اگر اہلکار کا جرم ثابت ہوا تو اُسے مثالی سزا دی جائے گی۔ دوسری جانب اس واقعے نے پولیس اسٹیشنز میں خواتین کی سیکیورٹی اور تحفظ سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات شفاف اور غیر جانبدار انداز میں کی جائیں اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تھانوں میں نگرانی کے مؤثر نظام قائم کیے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار