مظفرگڑھ: تھانہ صدر میں میڈیکل لیٹر کے لیے آئی خاتون مبینہ زیادتی کا شکار، پرائیویٹ اہلکار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مظفرگڑھ : ایک افسوسناک واقعے میں تھانہ صدر مظفرگڑھ میں اغواء کیس میں میڈیکل لیٹر لینے کے لیے آنے والی خاتون مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بن گئی، متاثرہ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ تھانے میں موجود ایک پرائیویٹ اہلکار نے اُسے تنہا پا کر ایک کمرے میں لے جا کر زیادتی کی۔
پولیس حکام کے مطابق خاتون کو اُس کے اغواء کے مقدمے کے سلسلے میں طبی معائنے کے لیے تھانے بلایا گیا تھا، جہاں یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مذکورہ پرائیویٹ اہلکار کو حراست میں لے لیا گیا اور اُس کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
پولیس ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے اور تھانے کی حدود میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اگر اہلکار کا جرم ثابت ہوا تو اُسے مثالی سزا دی جائے گی۔ دوسری جانب اس واقعے نے پولیس اسٹیشنز میں خواتین کی سیکیورٹی اور تحفظ سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات شفاف اور غیر جانبدار انداز میں کی جائیں اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تھانوں میں نگرانی کے مؤثر نظام قائم کیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔