Islam Times:
2026-07-24@06:10:58 GMT

ایران کی کامیاب جنگی حکمت عملی

اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT

ایران کی کامیاب جنگی حکمت عملی

اسلام ٹائمز: ایران کے میزائلوں نے ایک اور بڑا کام کیا ہے۔ رپورٹس آ رہی ہیں کہ "اسرائیل کی جانب سے ایرانی نیوکلیئر سائنسدانوں کے قتل کے بعد، ایران نے بدلہ لینے کے لیے وہ راستہ چنا جس نے اسرائیل کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایران نے اسرائیل کے سب سے اہم سائنسی تحقیقی ادارے (وائزر مین انسٹیٹیوٹ) پر ہائپر سونک میزائلوں سے حملہ کیا، جس سے ادارہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ اس ادارے میں 2500ء سے زائد ماہرینِ طبیعیات، AI، کوانٹم کمپیوٹنگ، بایو ٹیکنالوجی اور دفاعی تحقیق پر کام کر رہے تھے۔ یہ ادارہ دنیا بھر میں ریسرچ آؤٹ پٹ میں چھٹے نمبر پر تھا اور اسرائیلی فضائیہ، جوہری منصوبوں، اور NASA و امریکی یونیورسٹیوں سے اشتراک میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا۔ صرف چند منٹوں میں 91 سال کی سائنسی محنت، ڈیٹا، لیبارٹریز اور دنیا کے بہترین اذہان صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

اسلامی جمہوریہ ایران کی افواج نے دوست اور دشمن دونوں کو حیران کر دیا ہے۔ دوست پہلے دن اسرائیلی حملوں سے بہت پریشان تھے اور دشمن خوشیاں منا رہے تھے، ایسے میں سپاہ پاسدان نے صرف اٹھارہ گھنٹوں میں دشمن کو ایسا جواب دیا کہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ ہم نے جس سوچ او رتیاری کے ساتھ حملے کیے تھے وہ تو ناکام ہو گئے ہیں۔ وہ یہ امیدیں لگا کر بیٹھے تھے جس طرح سے عراق پر حملے کے وقت صدام کی افواج بھاگ گئی تھیں اور امریکی افواج بڑی آسانی سے قابض ہوگئی تھیں اسلامی جمہوریہ ایران میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ نام نہاد شاہ ایران کا بیٹا بھی اسرائیلی وزیراعظم کی بغل میں کھڑے ہو کر پھر آمرانہ حکومت کا خواب دیکھ رہا تھا۔ اسے تو خواجہ آصف نے صحیح آڑے ہاتھوں لیا ہے اور درست مطالبہ کیا کہ ذرا ایران کے اندر تشریف لائیں خوشبو لگا کر پھرآپ کو سمجھ میں آ جائے گی کہ آپ کی حیثیت کیا ہے؟ اسلامی جمہوریہ ایران کے مسلسل حملے دشمن کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں۔

ایران نے بڑی تیزی سے ایسے اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن کے بارے میں مقامی لوگوں کو بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ فوجی اہداف ہیں۔ مثلاً موساد کا ہیڈ کوارٹر اڑا دیا گیا ہے، اسی طرح وزارت دفاع کی بلڈنگ اور وزارت داخلہ کی عمارات کو نشانہ بنایا گیا ہے، اسی طرح آئل ریفائری کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ کسی ملک کا محفوظ ترین ٹھکانہ اس کی دفاعی ایجنسی کا دفتر ہوتا ہے اس کا پتہ لگا کر اس کا درست نشانہ لگایا گیا ہے۔ ایران ابھی تک اپنے پرانے میزائل استعمال کر رہا ہے اور اسرائیل کے دفاعی نظام کو مسلسل چکمہ دینے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ ایک رات کا خرچہ دو پچاسی ملین ڈالر ہے یہ کوئی معمولی رقم نہیں ہے، اگر ایک دو ہفتے اور یہی معاملہ چلتا ہے تو آئرن ڈوم کی بیٹریاں بھی ختم ہونے کی اطلاعات آ رہی ہیں اور اسرائیل کے مالی طور پر بھی بہت بڑے نقصانات ہو رہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے خطے اتحادیوں اور سمندری ناکہ بندی کا فیصلہ نہیں کیا۔

ایران کے میزائلوں نے ایک اور بڑا کام کیا ہے۔ رپورٹس آ رہی ہیں کہ "اسرائیل کی جانب سے ایرانی نیوکلیئر سائنسدانوں کے قتل کے بعد، ایران نے بدلہ لینے کے لیے وہ راستہ چنا جس نے اسرائیل کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایران نے اسرائیل کے سب سے اہم سائنسی تحقیقی ادارے (وائزر مین انسٹیٹیوٹ) پر ہائپر سونک میزائلوں سے حملہ کیا، جس سے ادارہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ اس ادارے میں 2500ء سے زائد ماہرینِ طبیعیات، AI، کوانٹم کمپیوٹنگ، بایو ٹیکنالوجی اور دفاعی تحقیق پر کام کر رہے تھے۔ یہ ادارہ دنیا بھر میں ریسرچ آؤٹ پٹ میں چھٹے نمبر پر تھا اور اسرائیلی فضائیہ، جوہری منصوبوں، اور NASA و امریکی یونیورسٹیوں سے اشتراک میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا۔ صرف چند منٹوں میں 91 سال کی سائنسی محنت، ڈیٹا، لیبارٹریز اور دنیا کے بہترین اذہان صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ ایرانی حکمت عملی انتہائی زبردست تھی۔پہلے ڈرون اور کم معیار کے میزائل بھیجے تاکہ اسرائیلی دفاعی نظام (آئرن ڈوم، ڈیوڈ سلِنگ، ایرو) ری لوڈ پر مجبور ہو جائے۔ پھر 11 منٹ کے اس خلاء میں ہائپر سونک میزائل داغے، جو سیدھا اس انسٹیٹیوٹ پر گرے۔ اسرائیلی صدر نے خود تسلیم کیا کہ "یہ ایک دفاعی  تعلیمی ادارہ تھا، اب صرف راکھ ہے، ہم نے اپنے بہترین سائنسدان اور تحقیق کھو دئیے۔" اسرائیل ہمیشہ دیگر ممالک کے تحقیقاتی ادارے تباہ کرتا آیا ہے اب اس تکلیف سے خود گزر رہا ہے۔

دنیا میں طاقتور کو کمزور پر چڑھ دوڑنے کے لیے کسی اخلاقی و قانونی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دیکھیے صحافیوں نے ٹرمپ سے پوچھا کہ ان کے پاس ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے حوالے سے کیا معلومات ہے کیونکہ امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی پہلے کہہ چکی ہے کہ ان کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ٹرمپ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’پھر میری انٹیلی جنس کمیونٹی غلط ہوگی۔ یعنی جو ٹرمپ کی آنکھیں اور کان ادارہ ہے اس کی رپورٹ غلط ہوگئی کیونکہ خود ٹرمپ صاحب حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ ویسے اب کہہ رہے ہیں کہ میں دو ہفتے بعد فیصلہ کروں گا، مذاکرات کو موقع دینا چاہتا ہوں۔ ساتھ ہی کہہ دیا کہ اسرائیل زیادہ بہتر جا رہا ہے ایرانی بھی اچھے جا رہے ہیں۔ ایرانیوں کو ہم سے مذاکرات کرنے چاہیئے۔ یہ تو پنجاب کے دیہی علاقے کے گھنڈوں والا طریقہ کار ہے جو بات نہیں مان رہا اس کی کسی چمچے سے لڑائی کروا دو اور پھر خود نمبر دار بن کر آجاؤ کہ میں فیصلہ کروں گا۔ اب وقت گزر چکا ہے اور دنیا میں کافی اور حقیقتیں بھی سامنے آ چکی ہیں۔

ایران پر اسرائیل کے حملے کے پہلے دن زخمی ہونے والے رہبر معظم کے سیاسی مشیر علی شمخانی نے ایکس پر اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر لکھا ہے ’تقدیر یہی تھی کہ میں زخمی جسم کے ساتھ زندہ رہوں، تو میں رہوں گا تاکہ دشمن کی دشمنی کی وجہ بنا رہوں کیونکہ وہ بھی اس کی وجہ خوب جانتا ہے اور میں بھی۔‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’میں ایران کے عوام کے لیے سو بار اپنے آپ کو قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘ شمخانی نے گذشتہ روز آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے نام ایک پیغام میں بھی کہا تھا: ’میں زندہ ہوں اور اپنے آپ کو قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ امریکہ اور اسرائیل کو معلوم ہونا چاہیئے جب ایسے مضبوط اطاعت گزار لوگ نظام میں موجود ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت اس نظام کو شکست نہیں دی سکتی۔ اب تو دنیا کے بڑے بڑے تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ اسلامی انقلاب جنگ شروع ہونے سے پہلے کی نسبت زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔ ایرانی قوم کی خودی پر ضرب لگائی گی ہے جس نے اسے متحد کر دیا ہے۔ آقا محسن رضائی نے درست کہا کہ پچھلی جنگ کے بعد پنتیس سال تک ہمارے ملک میں امن رہا تھا، اس جنگ کے بعد اگلے پچاس سال تک انشاء اللہ امن رہے گا اور کسی کو ہم پر حملے کی جرات نہیں ہوگی۔ یہ بات ایک بار پھر درست ثابت ہوگئی ہے کہ امن صرف اور صرف طاقت سے حاصل کیا جاتا ہے کمزور کے لیے کوئی امن نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی جمہوریہ ایران اور اسرائیل نے اسرائیل اسرائیل کے ایران نے ایران کے رہا تھا رہے ہیں رہا ہے ہیں کہ کے بعد گیا ہے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم