غزہ اور ایران پر اسرائیلی جارحیت کیخلاف امریکا و یورپی ممالک میں احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سان فرانسسکو: غزہ اور ایران پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف امریکا اور یورپی ممالک میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔
امریکی شہر سان فرانسسکو میں مظاہرین نے وفاقی عمارت کے سامنے مظاہرہ کیا اور حکومت سے ایران پر اسرائیلی حملے فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں رسل اسکوائر سے ڈاؤئنگ اسٹریٹ تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔مظاہرین نے غزہ میں مظالم اور ایران پر حملوں کےخلاف اسرائیل مخالف نعرے لگائے اور حکومت برطانیہ سے اسرائیلی جارحیت کے خلاف عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں سیکڑوں افراد اسرائیلی جارحیت کے خلاف سڑکوں پر نکلے۔
اسٹاک ہوم میں بھی احتجاجی ریلی میں مظاہرین نے اسرائیلی جارحیت اور غزہ میں اسرائیلی مظالم فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیلی جارحیت ایران پر
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔