data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ہدایت دی ہے کہ ایران سے متصل علاقوں میں خوراک کی قلت ہر صورت میں روکی جائے۔

سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ایران بارڈر سے ملحقہ اضلاع کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں زائرین اور طلبہ کی واپسی، خوراک کی فراہمی اور بنیادی سہولیات سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ فی الوقت ایرانی سرحد سے ملحقہ بلوچستان کے علاقوں میں غذائی قلت نہیں ہے، جبکہ بجلی اور ایل پی جی کے متبادل ذرائع سے فراہمی کی حکمت عملی بھی طے کر لی گئی ہے۔ وفاقی حکومت سے رابطے کے ذریعے ان سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ بارڈر ایریاز میں خوراک کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے، اور پیٹرول کی دستیابی کے لیے وزارتِ پیٹرولیم سے مسلسل رابطہ رکھا جائے تاکہ سرحدی علاقوں کی آبادی کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔

انہوں نے پی ڈی ایم اے کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز تمام معاملات پر گہری نظر رکھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی

چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔

اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔

ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔

وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔

We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.

Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8

— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم