وزیراعلی مریم نواز کی زیرصدارت 4 گھٹنے طویل جائزہ اجلاس،8 بڑے محکموں سے تفصیلی بریفنگ لی
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 اکتوبر2025ء) وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت 4 گھٹنے طویل جائزہ اجلاس منعقد ہوا، وزیراعلی مریم نواز شریف نے8بڑے محکموں سے تفصیلی بریفنگ لی۔اجلاس میں دور دراز علاقوں سے پانی لانے کی مشقت سے نجات کیلئے گھر گھر بوتل بند پانی مہیا کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔وزیراعلی نے اجلاس کے دوران سیلاب متاثرہ علاقوں میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر شاباش دی۔
اجلاس میں بتایاگیا کہ سیلاب کے دوران متاثرہ علاقوں میں ساڑھے 11لاکھ افراد کا علاج معالجہ کیا گیا۔سیلاب متاثرہ علاقوں میں 174 افراد کوسانپوں نے کاٹا -فلڈ ریلیف کیمپوں میں موجود سانپ کے کاٹنے کی ویکسین لگانے سے تمام جانیں بچ گئیں۔وزیراعلی نے سانپ کاٹنے کے واقعات میں بروقت علاج سے قیمتی انسانی جانیں بچانے پر اظہار تشکر کیا۔(جاری ہے)
مزید بتایاگیاکہ پنجاب نے سروائیکل کینسر ویکسی نیشن میں ریکارڈ قائم کرکے دوسرے صوبوں پر سبقت لے لی۔
65لاکھ بچیوں کی سروائیکل کینسر ویکسی نیشن مکمل ہونے پر وزیراعلی نے اظہار اطمینان کیا۔ انہوں نے کیتھ لیب پراجیکٹ کی تکمیل جلد از جلد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ محکمہ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن کے کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر نے پائلٹ پراجیکٹ میں 32ہزار گھروں کا ڈیٹا حاصل کر لیا۔ انہوں نے اجلاس کے دوران سپیشل افراد کے گھروں تک پہنچنے اور مدد کا طریق کار وضع کرنے کا حکم دیااور صوبہ بھر میں سپیشل افراد کا ڈیٹا مکمل کرنے کیلئے محکموں کو اشتراک کار کی ہدایت کی۔ وزیراعلی نے سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو تعلیم کے ساتھ ساتھ خصوصی افراد کی فلاح وبہبود کا پراجیکٹ مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے دسمبر تک پنجاب کے مختلف شہروں میں 1115الیکٹرو بسیں فنکشنل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنرز کو الیکٹرو بس چارجنگ سٹیشن قائم کرنے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی۔اجلاس کے دوران پنجاب بھر کیلئے الیکٹرو بس سٹاپ کے یونیفارم ڈیزائن کی منظوری دیدی۔وزیراعلی نے کہاکہ الیکٹرو بس نے قلیل مدت میں عوامی مقبولیت کے ریکارڈ قائم کر دئیے۔ایس آر ٹی پراجیکٹ جلد از جلد شروع کرنے کی ہدایت کی- اجلاس میں مختلف اضلاع میں الیکٹرو بس پروگرام کے لانچنگ شیڈول کی منظوری دے دی گئی۔اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایاگیاکہ چند ماہ میں 19شہروں میں واسا قائم کرنے کانیا ریکارڈ بنایاہے،ڈیڑھ سال قبل صرف 5شہروں میں واسا کام کررہا تھا۔پنجاب بھر کے 25اضلاع میں 31دسمبر تک واسا کے قیام کا ہدف مقرر کیاگیاہے۔صوبہ بھر میں 5ہزار سے زائدبند واٹر فلٹریشن پلانٹ فنکشنل کردئیے گئے ہیں ۔وزیراعلی نے صوبہ بھر میں واٹر فلٹریشن پلانٹ پراجیکٹس کی ٹائم لائن طلب کر لی ہے۔ وزیر ہاوسنگ بلال یاسین کوخود دورے کرکے واٹر فلٹریشن پلانٹ کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔واٹر فلٹریشن پلانٹس بھی ڈپٹی کمشنرز کے پی آئی میں شامل کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ دفاتر میں ہر چیز اچھی لگتی ہے،فیلڈ میں جا کر حقائق کا اندازہ ہوتا ہے۔ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 15شہروں میں کام مون سون سے پہلے مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلی نے میونسپل کارپوریشن کی کیپسٹی بلڈنگ میں اضافہ کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایاگیاکہ لاہور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا پہلا فیز30نومبر تک مکمل ہو جائے گا۔لاہور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت 4624 گلیوں کی تعمیر وبحالی مکمل کر لی گئی۔نو تعمیر شدہ گلیوں میں توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیاگیا۔وزیراعلی نے لاہور میں پی ایچ اے کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اورپی ایچ اے کو بانس کے جنگل لگانے کی ہدایت کی۔ڈی جی پی ایچ اے راجہ منصور نے بتایا کہ پی ایچ اے لاہور نے چند ماہ میں گھر وں تک جا کر 27ہزار پودے لگائے۔پی ایچ اے لاہور کاآن لائن گلدستہ پراجیکٹ بھی جاری ہے،گھر بیٹھے آرڈر کیا جا سکتا ہے۔وزیراعلی نے 472دیہات میں مثالی گاوں پراجیکٹ کیلئے اکتو بر کی ڈیڈ لائن مقرر کردی۔وزیراعلی نے اس امر پر اطمینان کااظہار کیاکہ مثالی گاوں پراجیکٹ میں جنوبی پنجاب کے سب سے زیادہ دیہات شامل ہیں ۔مثالی گاو ں کیلئے ملتان کے 62، بہاولپورکے48اور ڈی جی خان کے38دیہات پہلے فیز میں شامل ہے۔مثالی گاوں میں پارکس،پکی گلیاں،کور ڈرین،قبرستان کی چار دیواری اور جوہڑو ں کی صفائی شامل ہے۔ اجلاس میں پلیسر گولڈ پراجیکٹ سرکاری طور پر شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیاگیا- بریفنگ میں بتایا گیاکہ پنجاب میں 11ہزار کان کنوں کو راشن کارڈ جاری کئے،25ہزار کارڈ کا ہدف اسی ماہ مکمل ہو گا۔پنک سالٹ کے پرانے کنٹریکٹ منسوخ اورری آکشن سے ریونیومیں 5گنا اضافہ ہوگا۔امریکہ،یورپ،متحدہ عرب امارات میں پنک سالٹ کی مارکیٹنگ کا فیصلہ کیا گیا- چنیوٹ آئرن اور رکی ابتدائی سٹڈی مکمل ہوگئی ہے،4ماہ میں ٹیسٹ مکمل کرکے آغاز کر دیا جائے گا۔میانوالی میں پلیسر گولڈکی چوری روکنے کے لئے چھاپے مارے گئے اور دفعہ144نافذ کر دی گئی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کرنے کی ہدایت واٹر فلٹریشن کا فیصلہ کیا وزیراعلی نے کی ہدایت کی الیکٹرو بس اجلاس میں پی ایچ اے انہوں نے کے دوران کرنے کا
پڑھیں:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔
کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔
کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔
کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔
مزید :