اسرائیلی یہودی فوج کے ہاتھوں500 مسلمان فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
عالمی طاقتوں کی بے حسی ، 12دنوں میں نہتے ، بھوکے ، مرد ، خواتین اور بچوں کا قتل
ہزاروں افراد شدید زخمی ، اسرائیلی توپ خانوں سے گولہ باری ،امدادی ٹیمیں متاثر
گزشتہ12دنوں میں اسرائیلی یہودیوں کے ہاتھوں تقریباً 500 سے زائد فلسطینی مسلمانوں کو شہید کردیا گیا ، جس میں مردوں کے علاوہ خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے جبکہ ہزاروں افراد شدید زخمی کیے گئے ،جنہیں طبی امداد کی سہولیات میسر نہیں ہیں ، جس کی بناء بیشتر زخمی اذیت میں رہتے ہوئے شہید ہوئے ۔گزشتہ24گھنٹوں میں51 سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور104زخمی ہوئے ،طبی ذرائع کے مطابق اتوار کی صبح سے اب تک36 افراد شہید ہوئے، جن میں7 وہ افراد تھے جو امداد کے انتظار میں کھڑے تھے۔ناصر اسپتال کے ذرائع کے مطابق جنوبی غزہ کے رفح شہر میں امدادی مرکز کے قریب6افراد شہید ہوئے۔خان یونس کے علاقے المواسی میں ایک خیمے پر اسرائیلی ڈرون حملے میں2 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔کپتان محمد ناصر غراب، جو2005ء سے غزہ سول ڈیفنس میں خدمات انجام دے رہے تھے، اسرائیلی حملے میں نصیرات مہاجر کیمپ میں اپنے گھر پر نشانہ بننے کے بعد شہید ہو گئے۔ان کی شہادت کے بعد سول ڈیفنس کے شہدا کی تعداد121ہو گئی ہے، جو کہ اس ادارے کے کل عملے کا تقریبا 14.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔