حیدرآباد، باراتیوں کی بس اور ٹریلر میں ٹکر، دلہا جاں بحق، 15 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
ریسکیو حکام کے مطابق ایم نائن موٹر وے پر باراتیوں کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں دولہا جان کی بازی ہار گیا جبکہ خواتین سمیت 15 باراتی زخمی ہوئے ہیں، جاں بحق دلہا کی شناخت عبداللہ میر بحر کے نام سے ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ باراتیوں کی بس اور ٹریلر میں تصادم سے دلہا جاں بحق جبکہ 15 افراد زخمی ہوگئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق ایم نائن موٹر وے پر باراتیوں کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں دولہا جان کی بازی ہار گیا جبکہ خواتین سمیت 15 باراتی زخمی ہوئے ہیں، جاں بحق دلہا کی شناخت عبداللہ میر بحر کے نام سے ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ بارات حب سے نوشہرو فیروز جا رہی تھی، حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا، نعش اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: باراتیوں کی
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔