یورپی یونین کی اعلیٰ سفارت کار نے کہا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کی مشتبہ خلاف ورزیوں پر اپنی حکومت کے ساتھ تشویش کا اظہار کریں گی، کیونکہ برسلز میں ہونے والی بات چیت نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر اثرانداز ہونے کے حوالے سے بلاک کے اندر تقسیم کی نشاندہی کی۔

کاجا کیلس نے کہا کہ ان کی ترجیح انسانی صورتحال کو بہتر بنانا ہے کیونکہ یورپی دارالحکومتوں میں وہاں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش پائی جاتی ہے۔

یورپی یونین کی سفارتی سروس نے ایک رپورٹ میں کہا کہ اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ اسرائیل نے بلاک کے ساتھ اپنے تعلقات کو کنٹرول کرنے والے معاہدے کی شرائط کے تحت انسانی حقوق کی اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل کی وزارت خارجہ نے یورپی یونین کی رپورٹ کو ’’اخلاقی اور طریقہ کار کی ناکامی‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

کیلس نے یورپی وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ اب میں اسرائیل کے ساتھ جائزے کے نتائج پر بات کروں گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا پہلا مقصد زمینی صورتحال کو بدلنا اور انسانی امداد پہنچانے میں مدد کرنا ہے۔

کیلس نے مزید کہا کہ اگر کوئی بہتری نہیں آئی تو وہ جولائی میں اس مسئلے کو پھر اٹھائیں گی۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: یورپی یونین کہا کہ

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم