سپریم کورٹ: مخصوص نشستوں کا نظرثانی کیس، وکیل حامد خان کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے نظرثانی کیس کی آئندہ سماعت 26 جون کو مقرر ہے، تاہم سنی اتحاد کونسل کے وکیل حامد خان نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر کر دی ہے۔
درخواست کے مطابق، سینئر وکیل حامد خان 23 جون سے 5 جولائی تک عمومی التوا پر ہیں، جس کے باعث وہ سماعت میں پیش نہیں ہو سکیں گے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مخصوص نشستوں کے نظرثانی کیس کی سماعت 5 جولائی تک مؤخر کی جائے۔
مزید پڑھیں: مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی کیس، 2 ججز کا اختلافی نوٹ سامنے آگیا
یاد رہے کہ مخصوص نشستوں کے معاملے پر سپریم کورٹ میں جاری نظرثانی درخواستوں میں حامد خان سنی اتحاد کونسل کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سپریم کورٹ مخصوص نشستوں کا نظرثانی کیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ مخصوص نشستوں کا نظرثانی کیس مخصوص نشستوں کے نظرثانی کیس سپریم کورٹ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔