ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ 350 ملین ڈالر معاہدے پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
ایشیائی ترقیاتی بینک خواتین کی مالی شمولیت کے فروغ کےلیے پاکستان کو مجموعی طور پر 35کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔
وزارت اقتصادی امور کے مطابق حکومت پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان ویمن انکلیوسو فنانس سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (سب پروگرام ٹو) کے تحت 350 ملین ڈالر معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔
اس معاہدے پر وزارت اقتصادی امور کی جانب سے ایڈیشنل سیکریٹری سبینہ قریشی اور اے ڈی بی کی جانب سے منصوبے کے ایڈمنسٹریشن یونٹ کے سربراہ دنیشن راج شیوکوٹی نے دستخط کیے جبکہ فنانشل انٹرمیڈیئری لون کے پروجیکٹ معاہدے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے دستخط کیے گئے۔
اس موقع پر حکومت پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔ یہ معاہدہ حکومت پاکستان کے خواتین کی معاشی بااختیاری کے پختہ عزم کا مظہر ہےاس پروگرام کے ذریعے خواتین کو مالیاتی خدمات تک بہتر رسائی، کاروباری مواقع میں وسعت اور روزگار کے نئے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
اعلامیے کے مطابق جو ملک میں جامع اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگاسب پروگرام ٹو پہلے مرحلے میں کی گئی بنیادی پالیسی اصلاحات پر استوار ہے اورچار اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جن میں خواتین کی مالی شمولیت کے لیے موزوں پالیسی اور ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل ،خواتین کے لیے مالی وسائل کی دستیابی میں اضافہ، خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دینا، مالیاتی شعبے میں مساوی اور جامع کام کے مواقع کی ترویج شامل ہیں۔
اس منصوبے کے تحت 350 ملین ڈالر کی مالیاتی معاونت میں 300 ملین ڈالر پالیسی بیسڈ قرض اور 50 ملین ڈالر فنانشل انٹرمیڈیئری لون شامل ہے۔
یہ فنڈنگ پاکستان کے لیے ایک جامع، مضبوط اور پائیدار معیشت کی تشکیل کی جانب ایک بڑا قدم ہے اعلامیہ کے مطابق معاہدے پر دستخط حکومت پاکستان کے اس پختہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ خواتین کو قومی معیشت کا فعال حصہ بنایا جائے۔
یہ پروگرام خواتین کو مالی وسائل تک مؤثر رسائی فراہم کرے گا، ان کی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گااس اقدام سے نہ صرف خواتین کی معاشی خودمختاری کو تقویت ملے گی بلکہ ایک زیادہ جامع، مساوی اور خوشحال مستقبل کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایشیائی ترقیاتی بینک حکومت پاکستان خواتین کی ملین ڈالر معاہدے پر کی جانب
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔