پاک بھارت کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کے درمیان پہلی بالمشافہ ملاقات کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
حال ہی میں پاک بھارت فوجی تنازع کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کے درمیان پہلی بالمشافہ ملاقات کا امکان ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق پاک بھارت وزرائے دفاع کی ملاقات چین میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران ہو سکتی ہے۔
پاکستانی وفد وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی قیادت میں اجلاس میں شریک ہوگا جبکہ بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ بھی اپنے وفد کے ہمراہ ایس سی او اجلاس میں آئیں گے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیرِ دفاع خواجہ آصف اجلاس میں میں شرکت کے لیے چین میں ہیں لیکن بھارتی وزیرِ دفاع سے کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔