ایران اسرائیل جنگ بندی عالمی امن کی طرف تاریخی قدم ہے، ڈاکٹر شوکت علی شیخ
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
برمنگھم:پاکستان مسلم لیگ (ق)برطانیہ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شوکت علی نے کہا ہے کہ عالمی انصاف کے ممالک کو فلسطینیوں کے لیے آزاد ریاست کے قیام اور ان پر ڈھائے گئے ظلم و ستم کے مستقل ازالے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہوجو اس صدی کا سب سے بڑا انسانیت کا قاتل ہے، اسے عالمی عدالت انصاف کے کٹہرے میں لانا خطے میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔
یہ بات انہوں نے انگلینڈ کے ایک مقامی ہوٹل میں صحافیوں، پارٹی ممبران اور مختلف مکاتبِ فکر کی شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ قائد جناب چوہدری شجاعت حسین کی مفاہمتی اور روشن خیال سیاست کو مدِنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ایران اسرائیل جنگ کا رکنا عالمی امن کی جانب ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ڈاکٹر شوکت علی نے کہا کہ پاکستان اُن تمام ممالک، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد پیش کرتا ہے جنہوں نے جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان نے دنیا میں سب سے پہلے مسٹر ٹرمپ کو نوبل انعام دینے کی حمایت بھی کی۔ڈاکٹر شوکت علی شیخ نے گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور عالمی امن کی خاطر سب سے زیادہ انسانی جانوں کی قربانیاں دی ہیں، جسے اسلام میں شہادت کہا جاتا ہے۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے ہمیشہ امریکہ اور دیگر امن خواہ ممالک کا ساتھ دیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ ایک اچھے ہمسایے کی طرح رہنا چاہتے ہیں، مگر بھارت نے کبھی پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی بہادر افواج نے دشمن کو شکست دے کر ثابت کر دیا کہ پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے، اور پاکستان ایک حقیقت ہے جو ان شاء اللہ قیامت تک قائم رہے گا۔ بیرونِ ملک مقیم محبِ وطن پاکستانی اپنی افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔آخر میں پاکستان مسلم لیگ برمنگھم کے صدر محمد شفیق نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پرتپاک عشائیے کا اہتمام کیا، اور قائد چوہدری شجاعت حسین کی صحت یابی و ملک پاکستان کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ نے کہا امن کی کے لیے
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ