آج اور کل کے دوران سیلاب آئے گا۔
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
سٹی42: آج اور کل کے دوران سیلاب آئے گا۔
یہ بات کسی صحافی نے نہیں بتائی بلکہ ڈیزاسٹر کی مینیجمنٹ کے قومی ادارہ نے بتائی ہے۔ این دی ایم اے نے بتایا کہ آج اور کل کے دوران پنجاب میں لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، ملتان، بہاولپور، رحیم یار خان میں سیلاب آنے کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے نے یہ بھی بتایا کہ سندھ میں کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، سجاول، جامشورو، نوابشاہ، لاڑکانہ کے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔
مجوزہ لیوی سے فرنس آئل کی سیل میں واضح کمی ہوگی؛ معاشی تھنک ٹینک
این دی ایم اے نے 48 گھنٹوں کے دوران ملک میں مون سون بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا۔
موسم کا محکمہ پہلے بتا چکا ہے کہ 26 تا 28 جون کے دوران اسلام آباد ، فیصل آباد، سرگودھا، میانوالی، ڈی جی خان، راجن پور سکھر، کشمور، تھرپارکر، میرپورخاص، عمرکوٹ، سانگھڑ، ٹنڈو الہٰ یار، بدین میں موسلادھار بارش متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے کو خدشہ ہے کہ چترال، سوات، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، آزاد کشمیر کے مظفرآباد، نیلم ویلی، باغ، راولا کوٹ، حویلی، ہٹیاں بالا میں "شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ ہو سکتی ہے۔"
پنجاب کی حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی
نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنت اتھارٹی نے مشورہ دیا ہے کہ بارش اور تیز ہواؤں کے دوران کمزور تعمیرات، کچی دیواروں، بجلی کے کھمبوں اوربل بورڈز سے دور رہیں، آندھی اور طوفان کے دوران حد نگاہ بھی کم ہو سکتی ہے جو حادثات کا باعث بنتی ہے لہٰذا محتاط رہیں۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔