ایشیا کپ؛ بھارتی شرکت کی گتھی تاحال نہیں سلجھ سکی
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
لاہور:
ایشیا کپ میں بھارتی شرکت کی گتھی تاحال نہیں سلجھ سکی، ویمنز ورلڈ کپ میں دونوں ٹیموں کی ایک گروپ میں شمولیت نے اے سی سی کی امیدیں بڑھا دیں، ایونٹ کے 12 سے 28 ستمبر تک انعقاد کا امکان ہے، ممکنہ طور پر یو اے ای میزبانی کرے گا۔
تفصیلات کے مطابق ایشیا کپ کا انعقاد رواں برس ہونا ہے البتہ پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے سبب ایونٹ پر خدشات کے بادل چھا چکے، 2023 کے ایشیائی ایونٹ میں پاکستان نے ہائبرڈ ماڈل کے تحت بھارتی میچز سری لنکا میں کروائے تھے، اب دونوں ممالک میں ایک دوسرے کی سرزمین پر نہ کھیلنے اور تیسرے وینیو پر میچز کا معاہدہ بھی ہو چکا جس کا اطلاق رواں برس چیمپیئنز ٹرافی سے ہوا۔
رواں سال بھارت کی میزبانی میں ایشیائی ایونٹ کا 12 سے 28 ستمبر تک یو اے ای میں انعقاد ہو سکتا ہے، البتہ تاحال بھارت نے ایشین کرکٹ کونسل کو شرکت کی تصدیق نہیں کی۔ سونی پکچرز نیٹ ورک انڈیا نے گزشتہ برس 170 ملین ڈالر کے عوض2024 سے 2031 تک تمام اے سی سی ٹورنامنٹس کے میڈیا رائٹس حاصل کیے تھے، ان میں مینز اور ویمنز ایشیا کپ کے تمام ایڈیشنز، دونوں کے انڈر 19 ایشیا کپ اور ایمرجنگ ٹورنامنٹس بھی شامل ہیں۔
گزشتہ دنوں بھارت کی جانب سے بائیکاٹ کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں جنھیں بی سی سی آئی نے مسترد کر دیا تھا، حال ہی میں سونی نے ایشیا کپ کا جو پرومو جاری کیا اس میں صرف بھارت، سری لنکا اور بنگلا دیش کے کپتانوں کو دکھایا گیا، پاکستانی قائد موجود ہی نہیں تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ دنوں آئی سی سی نے ویمنز ورلڈ کپ میں بھی پاکستان اور بھارت کو ایک ہی گروپ میں رکھا جس کی مخالفت سامنے نہیں آئی، اس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ بھارتی ٹیم ایشیا کپ میں بھی شرکت کرے گی، البتہ اگر اس نے پاکستان کیخلاف میچ فورفیٹ کر دیا تو پی سی بی بھی جوابی طور پر اگلے ایونٹس میں ایسا کر سکتا ہے، لہٰذا یہ آپشن اپنانا آسان نہ ہوگا، بھارتی ٹیم کی جگہ کسی اور کو ایونٹ میں لینا براڈ کاسٹنگ و دیگر مالی معاملات کے سبب ممکن نہیں لگتا۔
یاد رہے کہ ایشین کرکٹ کونسل کے موجودہ سربراہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی ہیں، سری لنکا میں 6 جون سے ویمنز ایمرجنگ ایشیا کپ کا انعقاد ہونا تھا جسے خراب موسم کا جواز بتا کر ملتوی کر دیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔