سابق پارلیمانی سیکرٹری قتل کیس؛ ن لیگ کے سابق سینیٹر چوہدری تنویر کو بڑا ریلیف مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
راولپنڈی:
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ماجد حسین گادی نے سابق پارلیمانی سیکرٹری چوہدری عدنان کے قتل کیس میں نامزد مسلم لیگ ن کے سابق سینیٹر چوہدری تنویر کی ضمانت منظور کر لی۔
عدالت نے ضمانت کی منظوری کے ساتھ 10،10 لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی جاری کر دیا۔
چوہدری تنویر کو 17 جون کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اُن پر الزام تھا کہ انہوں نے سابق رکن پنجاب اسمبلی چوہدری عدنان کے قتل کی سازش اور منصوبہ بندی میں کردار ادا کیا۔
قتل کا مقدمہ 12 فروری 2024 کو تھانہ سول لائن میں درج کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ چوہدری عدنان کو پولیس لائنز گیٹ کے قریب ٹارگٹ کرکے قتل کیا گیا تھا۔
مقدمے میں چوہدری تنویر کے علاوہ اسامہ چوہدری، دانیال چوہدری اور چوہدری چنگیز بھی نامزد ہیں۔
ایڈیشنل سیشن جج نے دورانِ سماعت ریمارکس دیے کہ ملزم کے خلاف ریکارڈ میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں اور بغیر شواہد کسی شخص کو طویل عرصے تک گرفتار نہیں رکھا جا سکتا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ملزم مقدمے کی پیروی کرے اور عدالت کی طلبی پر پیش ہوگا۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی چوہدری یاسر کا کہنا تھا کہ چوہدری تنویر نے اس مقدمے میں اپنی بے گناہی ثابت کر دی ہے اور قتل سازش سے متعلق کوئی شواہد عدالت میں پیش نہیں کیے جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام ضمانتی مچلکے تھوڑی دیر میں عدالت میں جمع کرا دیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ چوہدری تنویر دل کے شدید عارضے میں مبتلا ہیں اور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیر علاج ہیں، عدالت نے حکم دیا کہ ان کی ضمانت منظور کے بعد فوری رہا کردیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چوہدری تنویر قتل کی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :