واشنگٹن : ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک ایگزیکٹو  آرڈر کے ذریعے “پیدائشی حق شہریت” کو محدود  کرنے  کے ردعمل میں شروع کی گئی قانونی چارہ جوئی کے جواب میں، امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں فیصلہ دے  دیا۔ سپریم کورٹ کا ماننا ہے کہ فیڈرل ڈسٹرکٹ ججوں کو اس اقدام کےملک بھر نفاذ کو روکنےکا کوئی حق نہیں ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس ایگزیکٹو  آرڈر کو روکنا کانگریس کی طرف سے فیڈرل ڈسٹرکٹ کورٹس کو دیئے گئے اختیارات سے باہر ہے۔قدامت پسندوں کے زیر کنٹرول امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست کو 3 کے مقابلے میں 6 ووٹوں سے منظور کر لیا، جس سے فیڈرل ڈسٹرکٹ جج کا دائرہ اختیار صرف ان ریاستوں، گروہوں اور افراد پر لاگو کرنے تک محدود کر دیا گیا جنہوں نے مقدمہ دائر کیا تھا۔ تاہم، اس فیصلے میں یہ شامل نہیں کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ کا “پیدائشی حق شہریت” کو محدود کرنے کا  ایگزیکٹو آرڈر خود غیر آئینی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے تین ججوں نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات غیر آئینی ہیں۔ امریکی میڈیا کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے “پیدائشی حق شہریت” کو ختم کرنے کے لیے بتدریج اقدامات کرنے کے لیے سازگار ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: امریکی سپریم کورٹ نے پیدائشی حق شہریت ٹرمپ انتظامیہ

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ