تیز بارش اور حادثات، خیبر پختونخوا میں دو دنوں کے دوران 19 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
پشاور:
خیبرپختونخوا میں پچھلے 48 گھنٹوں کے دوران بارشوں، تیز آندھی اور فلش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث حادثات کے نتیجے میں 19 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ڈی ایم اے کی جانب سے بارش، سیلاب/فلش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث صوبے میں جانی و مالی نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کردی گئی۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق 19 جاں بحق افراد میں 6 مرد، 5 خواتین اور 8 بچے جبکہ زخمیوں میں 3 مرد اور 3 خواتین شامل ہیں، بارش کے باعث مجموعی طور پر 56 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 50 کو جزوی اور 6 مکمل طور پر منہدم ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق حادثات صوبے کے مختلف اضلاع سوات، ایبٹ آباد، چارسدہ، مالاکنڈ، شانگلہ، دیر لوئر اور تورغر میں پیش آئے، سب سے زیادہ متاثرہ ضلع سوات رہا جس میں 13 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ خاندان کو فوری طور پر امداد اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی، بارشوں کا سلسلہ یکم جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے، پی ڈی ایم اے نے پہلے ہی سے ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات اٹھانے کے لیے مراسلہ جاری کیا ہوا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق پی ڈی ایم اے، تمام ضلعی انتظامیہ، متعلقہ اور امدادی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی اپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع 1700 پر دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے کے مطابق
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک