ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والی ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ میں تھرڈ امپائر پر تنقید کرنے پر ویسٹ انڈیز کے کوچ ڈیرن سیمی پر جرمانہ عائد کر دیا گیا۔

بارباڈوس میں کھیلے گئے میچ میں ڈیرن سیمی ٹی وی امپائر کے دو فیصلوں بالخصوص دوسرے کپتان روسٹن چیز کے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کو برقرار رکھنے کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

دوسرے دن کے کھیل کے بعد ڈیرن سیمی کا کہنا تھا کہ انہیں ایڈرین ہولڈ سٹاک کی امپائرنگ پر انگلینڈ کےخلاف حال ہی میں کھیلی گئی ون  ڈے سیریز کے بعد سے تحفظات ہیں۔

ڈیرن سیمی کو آئی سی سی قواعد کے آرٹیکل 2.

7 کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا جس کا تعلق ’انٹرنیشنل میچ میں ہونے والے کسی واقعے یا کسی کھلاڑی، پلیئر سپورٹ پرسن، میچ آفیشل یا انٹرنیشنل میچ میں شریک ٹیم کےحوالے سے عوامی سطح پر تنقید یا نامناسب تبصرہ کرنے سے ہے‘۔

ویسٹ انڈین کوچ پر پہلےدرجے کی خلاف ورزی کے سبب میچ فیس کا 15 فی صد جرمانہ عائد کیا گیا اور ساتھ ہی ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دیا گیا۔

یہ ڈیرن سیمی کی  گزشتہ 24 ماہ میں پہلی خلاف ورزی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈیرن سیمی میچ میں

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی