تھرڈ امپائر پر تنقید، ویسٹ انڈین کوچ سیمی بڑی مشکل میں پھنس گئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والی ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ میں تھرڈ امپائر پر تنقید کرنے پر ویسٹ انڈیز کے کوچ ڈیرن سیمی پر جرمانہ عائد کر دیا گیا۔
بارباڈوس میں کھیلے گئے میچ میں ڈیرن سیمی ٹی وی امپائر کے دو فیصلوں بالخصوص دوسرے کپتان روسٹن چیز کے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کو برقرار رکھنے کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔
دوسرے دن کے کھیل کے بعد ڈیرن سیمی کا کہنا تھا کہ انہیں ایڈرین ہولڈ سٹاک کی امپائرنگ پر انگلینڈ کےخلاف حال ہی میں کھیلی گئی ون ڈے سیریز کے بعد سے تحفظات ہیں۔
ڈیرن سیمی کو آئی سی سی قواعد کے آرٹیکل 2.
ویسٹ انڈین کوچ پر پہلےدرجے کی خلاف ورزی کے سبب میچ فیس کا 15 فی صد جرمانہ عائد کیا گیا اور ساتھ ہی ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دیا گیا۔
یہ ڈیرن سیمی کی گزشتہ 24 ماہ میں پہلی خلاف ورزی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔