ویتنام پاکستان سے تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کاخواہشمند ہے
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر)ویتنام کے سفیر فام آینہ توان نے پاکستان کے ساتھ تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں ویتنام کی جانب سے گہری دلچسپی کا ظاہر کی ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت ایک ارب ڈالر تک پہنچنے کو ہے۔انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے پہلے دورے کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تجارتی حجم تقریباً 850 ملین ڈالر ہے اور دونوں ممالک مشترکہ کوششوں سے اس سال یا اگلے سال کے آخر تک ایک ارب ڈالر کے ہدف کو حاصل کرنے یا اس سے تجاوز کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔اس موقع پر ویتنام کے تجارتی مشن کی ہیڈ نیگوین تھی دیپ ہا، کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ضیاء العارفیں، نائب صدر فیصل خلیل احمد، سابق صدر مجید عزیز اورمنیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔ انہوں نے پاکستان میں اپنے تجربات کا تبادلہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ انہوں نے صرف دس ماہ قبل اپنی میں ذمہ داری سنبھالی ہے لیکن یہ عرصہ ملک کے لوگوں اور کاروباری ماحول کو سمجھنے کے لیے کافی رہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی تاجر برادری کی صلاحیتوں سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ اپنے دورے کے دوران انہیں لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، اسلام آباد اور اب کراچی چیمبر کا دورہ کرنے کا موقع ملا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ویتنام اور پاکستان کے درمیان 1972 سے طویل مدتی تعلقات ہیں۔ اس وقت دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے 53 سال مکمل کر رہے ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ صدر پرویز مشرف 2003 میں ویتنام کا دورہ کرنے والے پہلے پاکستانی صدر تھے جس کے بعد 2004 میں ویتنام کے صدر نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند