ابوظہبی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ یکم جولائی 2025ء)متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفارتخانے نے اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن (OPF) کے تعاون سے پاکستانی آم میلہ 2025 کا انعقاد لی رائل میرڈیئن ہوٹل ابوظبی میں کیا۔ اس رنگا رنگ تقریب میں ممتاز اماراتی معززین، سفارتکاروں، کاروباری شخصیات اور متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب کا آغاز ڈاکٹر محمد فاران نے استقبالیہ کلمات سے کیا، جنہوں نے میلے کے انعقاد میں بھرپور تعاون پر پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی اور سفارتخانے کا شکریہ ادا کیا۔ اپنے خطاب میں پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی نے پاکستان کو آموں کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی آم اپنے منفرد ذائقے، خوشبو اور اقسام کی وجہ سے عالمی سطح پر مشہور ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی آم برآمدات کا تقریباً 60 فیصد خلیجی ممالک کو جاتا ہے، جو اس کی خطے میں مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ثقافتی اور تعارفی پروگرام پاکستان کی مصنوعات کے عالمی تاثر کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، "آم میلے جیسے تہوار نہ صرف ہماری زرعی مہارت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں بلکہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے عوام کے درمیان دوستی اور ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔" میلے میں پاکستان کے اعلیٰ درجے کے آموں کی نمائش اور تقسیم کی گئی، جنہوں نے شرکاء کو "ذائقے کے بادشاہ" کا حقیقی لطف فراہم کیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں پاکستان

پڑھیں:

دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم  نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔

ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت