ٹرمپ کا ایلون مسک پر طنز: ’’سبسڈی ختم کریں تو واپس جنوبی افریقہ چلا جائے گا‘‘
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر دیے گئے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ایلون مسک تاریخ میں شاید سب سے زیادہ سبسڈی حاصل کرنے والا شخص ہے۔ اگر یہ مالی امداد نہ ہو، تو وہ اپنا کاروبار بند کر کے جنوبی افریقہ واپس جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ الیکٹرک گاڑیاں ٹھیک ہیں، لیکن حکومت کی طرف سے عوام پر ان کی خریداری لازم قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای وی مینڈیٹ ان کی انتخابی مہم کے ہمیشہ خلاف رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر اسپیس ایکس، ٹیسلا اور دیگر اداروں کو دی جانے والی سبسڈی روک دی جائے تو حکومت اربوں ڈالر بچا سکتی ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید ہمیں "ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (DOGE)" سے کہلوانا چاہیے کہ وہ اس معاملے کی جانچ کرے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/114776149269773065
ٹرمپ کی یہ تنقید ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایلون مسک نے کانگریس میں قرض کی حد بڑھانے والے بل پر تنقید کی تھی اور اعلان کیا تھا کہ اگر یہ بل منظور ہوا تو وہ نئی سیاسی جماعت "امریکا پارٹی" تشکیل دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔