ریجنل پاور کے طور پر سرگرم ہوتا پاکستان اب اپنا گھر ٹھیک کرے
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
شیخ حسینہ واجد کی بھارت نواز حکومت ختم ہونے کے بعد بنگلہ دیش بھارت تعلقات میں ایک تناؤ ہے۔ ڈاکٹر محمد یونس بنگلہ دیش کے عبوری وزیر اعظم ہیں۔ مارچ 2025 میں ڈاکٹر یونس نے بیجنگ کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے بعد بنگلہ دیش کے تعلقات پاکستان اور چین دونوں کے ساتھ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں۔
بنگلہ دیش کی معیشت دباؤ کا شکار ہے۔ بنگلہ دیش اس وقت چین اور ایشیائی مالیاتی اداروں کی طرف مائل ہے۔ 2025 میں بنگلہ دیش نے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک سے 400 ملین ڈالر قرض کلائمیٹ چینج کی مد میں حاصل کیے ہیں۔ یہ بنک ایشیا میں انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے اور اس کا صدر دفتر بیجنگ میں ہے۔ امریکا کے یو ایس ایڈ پروگرام میں بڑی کٹوتی کے بعد اس بینک نے بروقت بنگلہ دیش کو درکار مالی مدد فراہم کی ہے۔
ڈاکٹر یونس کے دورہ چین کے موقع پر 2 ارب 10 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری، قرض اور گرانٹ کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔ انفراسٹرکچر، ہیلتھ کیئر، روبوٹکس اور ڈیفنس ٹیکنالوجی میں چین نے بنگلہ دیش کو مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ چینی شمولیت کے تحت بنگلہ دیش کے تیستا دریا منصوبے میں چینی شمولیت اور بھارتی سلگڑی کاریڈور کے قریب چین کی ہوائی اڈے کی تجویز بھارت کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہو سکتا ہے۔ سلگڑی کاریڈور بھارت کو شمال مشرقی سات ریاستوں سے ملاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران-اسرائیل جنگ بندی کیوں اور کیسے ہوئی؟
19سے 24 جون 2025 کو چینی صوبے یوننان کے شہر کنمنگ میں نویں چین۔ جنوبی ایشیا نمائش ہوئی۔ اس موقع پر چھٹے چین۔ جنوبی ایشیا تعاون فورم کا بھی انعقاد ہوا۔ 19 جون کو سائڈ لائن پر پاکستان، چین اور بنگلہ دیش کے سفارتکاروں کے درمیان ایک اہم سہ فریقی ملاقات ہوئی۔
کنمنگ ملاقات میں چینی نائب وزیر خارجہ سن ویڈونگ، بنگلہ دیش کے قائم مقام سیکریٹری خارجہ روح الامین صدیقی، پاکستان کے ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ عمران احمد صدیقی نےشرکت کی۔ پاکستانی سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ اس اجلاس میں ورچوئلی شریک ہوئیں۔
چین اور پاکستان نے اس ملاقات کو آئندہ ’تعاون کے سہ فریقی طریقہ کار کی افتتاحی نشست‘ قرار دیا۔ یہ سہ فریقی فارمیٹ تجارت، سمندری امور، موسمیاتی تبدیلی، زراعت، تعلیم اور ثقافت میں تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔ بنگلہ دیش نے اسے ’غیر رسمی ملاقات‘ کہا ہے، اس احتیاط کی وجہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش کا موجودہ حکومتی سیٹ اپ عبوری ہے، جس کے پاس سفارتی پیشرفت کی گنجائش محدود ہے۔
مزید پڑھیے: جنگ کی قیمت کمر توڑ دیتی ہے
بھارت، جو خود کو بنگلہ دیش کی آزادی کے اکلوتے حامی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ بھارت عوامی لیگ کی حسینہ واجد حکومت کے ساتھ قریبی شراکت داری میں معیشت، سیکیورٹی اور علاقائی فورمز میں تعاون اور ہم آہنگی قائم رکھے ہوئے تھا۔ ڈاکٹر یونس حکومت نے بھارت کے اثر سے ’آزاد خارجہ پالیسی‘ اپنائی ہے، اس سے بھارت کو اپنا اثر محدود ہوتا محسوس ہوتا ہے۔
چین پاکستان بنگلہ دیش کا ابھرتا ہوا محور بھارت کے لیے نئے اسٹریٹجک چیلنج لایا ہے۔ چین جنوبی ایشیا میں اپنی اقتصادی رسائی کو بیلٹ اینڈ روڈ اور اس کے فلیگ شپ سی پیک پراجیکٹ، گوادر پورٹ اور ہمبنٹوٹا (سری لنکا ) جیسے منصوبوں کے ذریعے وسعت دے رہا ہے۔ بھارت کو لگتا ہے کہ چین اسے ’اسٹرنگ آف پرلز‘ حکمتِ عملی کے تحت گھیرے میں لے رہا ہے۔
چین بنگلہ دیش کو ہی پاکستان کے قریب نہیں لا رہا، افغانستان سے بھی پاکستان کے تعلقات بہتر بنانے میں چین کا اہم کردار ہے۔ بھارت کے ساتھ حالیہ تناؤ میں پاکستان کے بطور ریاست مضبوط ہونے کا تاثر قائم ہوا ہے ۔ مضبوطی کا یہ تاثر اب ڈرائیونگ فورس کی طرح پاکستان کے کام آ رہا ہے۔
خواجہ آصف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ہمیں تماشائی نہیں بنے رہنا چاہیے۔ ایک طاقتور ریجنل پلیئر جو ہم ہیں کی طرح اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس بیان کو دیکھیں تو سفارتی معاملات کے حوالے سے حکومتی اعتماد چھلکتا ہے۔ پاکستان کو درپیش سفارتی مشکلات میں تو واضح کمی آتی دکھائی دے رہی ہے ۔ گھر کے اندر مسائل کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ بتائے گی پاکستان کیوں زندہ باد
سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے نظرثانی درخواست پر فیصلہ سنایا ہے۔ اس فیصلے کے بعد حکومتی اتحاد کے نمبر 2 تہائی اکثریت کے لیے درکار 224 سے بھی بڑھ کر 232 ہو گئے ہیں ۔ پی ٹی ائی کے اراکین تکنیکی طور پر آزاد ہو گئے ہیں۔ اب وہ اپنی پارٹی تبدیل کریں تو ان کے لیے کوئی قانونی رکاوٹ موجود نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں حکومت بہت سے ایسے سیاسی قانونی اقدامات اٹھا سکتی ہے جس سے اندرون ملک کمزور حکومت کا تاثر بھی دور ہو جائے گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔
پاک افغان تعلقات پاک بنگلہ دیش تعلقات محمد یونس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک افغان تعلقات پاک بنگلہ دیش تعلقات محمد یونس بنگلہ دیش کے پاکستان کے بھارت کے کے ساتھ میں چین کے بعد کے لیے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔