کراچی: امریکی صدر ٹرمپ کیخلاف اندارج مقدمہ کی درخواست پر دلائل طلب
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت غربی / امیر الدین رانا نے عالمی قوانین اور جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی اور ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کیخلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف مقدمہ اندارج کی درخواست پر آج بدھ کے روز مزید دلائل طلب کرلیے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت غربی / امیر الدین رانا کی عدالت کے روبرو عالمی قوانین اور جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی اور ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کیخلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف مقدمہ اندارج کی درخواست کی سماعت ہوئی۔
عدالت نےسرکاری وکیل کا بلوالیا، عدالت نے استفسار کیا کہ اس درخواست کے حوالے سے ہمیں مطمئن کریں کہ یہ مقدمہ کس طرح سے درج ہو سکتا ہے، پہلے یہ بتائیں کہ کیا جرم ہوا ہے، جس کا آپ مقدمہ چاہتے ہیں۔
درخواستگزار وکیل جمشید علی خواجہ کے وکیل جعفر عباس جعفری ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کیا جس کے بہت زیادہ نقصانات ہوئے، میرا سوال یہ ہے کہ پاکستان کے پینل کورٹ کے تحت مجرمانہ سرگرمیوں کیخلاف مقدمہ درج کروایا جاسکتا ہے۔
امریکہ کا قونصلخانہ ڈاکس تھانے کی حدود میں آتا ہے اس لئیے وہاں درخواست دی گئی تھی۔ 171، 177، 179 سیکشنز کے تحت اس درخواست پر مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے۔
اس حملے کے اثرات وہاں بھی ہوئے جہاں یہ حملہ ہوا اور پوری دنیا میں بھی۔ جب یہ خبر چلی کہ بحری بیڑہ یہاں آرہا ہے تو لوگوں پر اس کے اثرات مرتب ہوئے تھے۔
154 کا بیان قلمبند کروانے کے لئیے اس عدالت سے رجوع کیا ہے۔ جب کوئی قتل ہوتا ہے تو اس کا مقدمہ ہر صورت درج ہوتا ہے چاہیے ملزم کا معلوم ہو یا نا ہو۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیا جرم ہوا ہے اس پر بات کررہے ہیں کہ کس قانون کے زمرے میں آتا ہے۔
سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ جب کوئی قتل ہوتا ہے تو اس جگہ کا بھی تعین کیا جاتا ہے جہاں قتل ہوا اور کہاں لاش ملی۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ جرم کہیں بھی ہوا ہو اس کے اثرات بہت سی جگہ پر ہوتے ہیں۔ جب یہ حملہ ہوا تو مجھ سمیت بہت سے لوگوں پر اس کا اثر ہوا ہے۔ جج امیر الدین رانا نے ریمارکس دیئے کہ ہم پاکستان کے قانون کی پاسداری کرنے کے لئیے یہاں موجود ہیں۔
سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ اگر مقدمہ درج کروانا چاہتے ہیں تو یہ بھی بتانا ہوگا کہ کس سیکشن میں ہوگا۔ پی پی سی کی کونسی سیکشن بنیں گی یہ بتائیے آپ لوگ۔
عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ دہشتگردی کی تحت مقدمہ درج اس وقت ہوتا ہے جب کوئی اغوا، قتل اور دیگر معاملات ہوئے ہو۔
جج امیر الدین رانا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ خوف زدہ ہونے پر مقدمہ درج کروانا چاہتے ہیں تو اس کی سیکشن آپ کو ہی بتانا ہوں گی۔ اگر آپ کو یہ مقدمہ کروانا ہے تو امریکہ جاکر یہ مقدمہ کروائیں۔ بیان ریکارڈ کرنے کے لئیے کسی سیکشن کی ضرورت نہیں۔ آپ کیا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی عدالتیں مذاق بن جائیں۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ پی پی سی کی میری پریکٹس نہیں ہے، اس لیے ابھی میں یہ نہیں بتا پاؤں گا، جب ابھی مقدمہ درج ہی نہیں ہوا تو پھر سرکاری وکیل کس طرح اس معاملے میں بات کرسکتے ہیں۔ 66 ممالک کی میری پریکٹس ہے۔
عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ اگر آپ کی پریکٹس نہیں ہے پی پی سی کی تو ہمارا کیا قصور ہے، ہیڈ آف اسٹیٹ کو استثنیٰ حاصل ہوتی ہے۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ یہ کیا پریکٹس ہے کہ کوئی جرم کرے اور اس پر مقدمہ درج نہیں ہوسکتا۔ اگر ایران پر حملے کے بعد ایٹمی تنصیبات ملتی تو پھر یہ کوئی جرم نہیں ہوتا۔
جج امیر الدین رانا نے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ کو مزید وقت دے رہے تاکہ آپ اس عدالت کو مطمئن کرسکیں۔ کسی کے جذباتی ہونے کی وجہ سے صرف ہم مقدمہ درج کرنے کا حکم نہیں دے سکتے۔
سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ ویانا کنوینشن کی سیکشن ہیڈ آف اسٹیٹ کو استثنیٰ دیتی ہیں۔ عدالت کی جانب سے درخواست کی سماعت آج بدھ ایک بجے تک کے لئیے ملتوی کردی گئی۔
دائر درخواست میں درخواستگزار جمشید علی خواجہ ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ درخواست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بطور ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
کراچی پولیس کے مختلف اعلیٰ افسروں کو شکایتی درخواستیں دی گئی تھیں۔ درخواست پر نا تو مقدمہ درج ہوا اور نا ہی کوئی بیان ریکارڈ کیا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرکے عالمی امن کو خطرے میں ڈالا تھا۔
کروڑوں مسلمانوں اور ہزاروں وکلاء کو جسمانی ، ذہنی و مالی نقصان پہنچا۔ پولیس کو سیکشن 154 سی آر پی سی کے تحت بیان ریکارڈ کرکے مقدمہ کے اندراج کا حکم دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امیر الدین رانا نے نے موقف اپنایا کہ نے موقف دیا کہ ایٹمی تنصیبات وکیل نے موقف سرکاری وکیل درخواست پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں عدالت نے کے وکیل ہوتا ہے کے لئیے پر حملہ
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔