مقبوضہ کشمیر،70 سالہ بزرگ سیاح خاتون کےساتھ زیادتی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (آن لائن) مودی سرکار کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں خواتین مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ بھارتی حکومت کی جانب سے سات لاکھ فوج تعینات کیے جانے کے باوجود مقبوضہ وادی غیر محفوظ ہے۔آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر کے عوام اور سیاح دونوں غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں پہلگام میں پیش آنے والے فالس فلیگ کے بعد ایک 70 سالہ
بزرگ سیاح خاتون کے ساتھ زیادتی نے سیاحتی تحفظ پر سنگین سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ بھارتی اخبار انڈیا ٹو ڈے کے مطابق مہاراشٹر سے آئی ایک بزرگ سیاح خاتون کو پہلگام کے ہوٹل کے کمرے میں ایک درندہ صفت شخص نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ نہ صرف انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے خلاف ہے بلکہ پہلگام کی سیاحتی ساکھ پر بھی بدنما داغ ہے۔مودی راج میں خواتین سے زیادتی روزانہ کا معمول بن چکا ہے جبکہ نظامِ انصاف مفلوج اور ریاست خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ بی جے پی کی انتہا پسند حکومت نے بھارت کو خواتین کے لیے دنیا کا سب سے غیر محفوظ ملک بنا دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں اس قسم کے درندگی کے واقعات ہندوتوا حکمتِ عملی کا نتیجہ بن چکے ہیں۔ خواتین کیخلاف بڑھتے ہوئے جرائم کے تناظر میں امریکا نے اپنی خواتین شہریوں کو بھارت کا سفر اکیلے نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔