ویسٹ انڈیز کیخلاف دوسرا ٹیسٹ؛ اسٹیو اسمتھ کی شمولیت سے متعلق اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
کراچی:
جنوبی افریقا کے خلاف لارڈز میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل کے دوران زخمی ہونے والے آسٹریلوی بلے باز اسٹیو اسمتھ کی ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں شمولیت سے متعلق اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
اسٹیو اسمتھ ویسٹ انڈیز کے خلاف گریناڈا میں دوسرے ٹیسٹ میں واپسی کے لیے تیار ہیں، تاہم انگلی کی انجری کے باعث انہیں دوران فیلڈںگ سِلپ پر کھڑا نہیں کیا جائے گا۔
گریناڈا ٹیسٹ سے دو دن قبل اسمتھ نے نیٹس میں بغیر کسی مسئلے کے فاسٹ بولرز کا سامنا کیا اور وہ غالباً جوش انگلس کی جگہ ٹیم میں شامل ہوں گے۔
جنوبی افریقا کے خلاف لارڈز میں انگلی کی کمپاؤنڈ ڈسلوکیشن کا شکار ہونے کے بعد یہ ان کا پہلا مکمل ٹریننگ سیشن تھا۔
بارباڈوس ٹیسٹ کے دوران اسمتھ نے ایک ہفتہ نیویارک میں اپنے اپارٹمنٹ میں گزارا اور اسکواڈ میں دوبارہ شامل ہونے پر ہی ان کے ٹانکے نکالے گئے۔ انہیں تقریباً چھ ہفتے تک انگلی پر اسپلنٹ پہننا ہوگا۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کا دوسرا ٹیسٹ کل سے شروع ہوگا۔ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں مہمان ٹیم ویسٹ انڈیز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویسٹ انڈیز کے خلاف
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔