data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور (کامرس ڈیسک )پنجاب پبلک سروس کمیشن (پی پی ایس سی) نے اپنے نام سے منسوب جعلی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ترجمان پی پی ایس سی ڈپٹی ڈائریکٹر سید کاظم مقدس کاظمی کے مطابق بعض جعل ساز عناصر جعلی ویب سائٹس اور فیک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے امیدواروں کو جھوٹی اسامیوں، ٹیسٹ شیڈولز اور فیس کی ادائیگی سے متعلق غلط معلومات دے کر دھوکہ دے رہے ہیں۔کمیشن نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ صرف پی پی ایس سی کی سرکاری ویب سائٹ www.

ppsc .gop.pk اور اس پر موجود تصدیق شدہ سوشل میڈیا لنکس پر ہی بھروسا کریں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ تمام بھرتیوں، اشتہارات، امتحانی شیڈولز، رول نمبر سلپس اور نتائج کی معلومات صرف سرکاری چینلز کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔کمیشن کسی بھی غیر مصدقہ ذرائع سے رابطے پر ہونے والے نقصان کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا۔پی پی ایس سی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ امیدواروں اور شہریوں تک پہنچائیں تاکہ شفاف، محفوظ اور دھوکہ دہی سے پاک بھرتی کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔علاوہ ازیں، کمیشن کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ وہ تمام امیدواروں کو آسامی، ٹیسٹ اور انٹرویو کے متعلق ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے سرکاری طور پر آگاہ کرتا ہے۔پی پی ایس سی نے امیدواروں کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن بھی قائم کر رکھی ہے، جس پر کال کر کے کسی بھی معلومات کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی پی ایس سی کے ذریعے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن