data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے ایک بڑا اور غیر متوقع فیصلہ کرتے ہوئے دنیا بھر سے تقریباً 9 ہزار ملازمین کو نوکری سے نکالنے کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی مائیکرو سافٹ کے ملازمین کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 28 ہزار ہے جن میں سے 9 ہزار کو ملازمت سے فارغ کردیا جائے گا، 2023 کے بعد کمپنی کی جانب سے کی جانے والی سب سے بڑی کٹوتی قرار دی جا رہی ہے۔

  مائیکروسافٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام بدلتے ہوئے عالمی معاشی حالات، تکنیکی ترقی اور ادارے کی مؤثر تشکیل نو کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔

مائیکروسافٹ کے ترجمان کے مطابق اس مرحلہ وار برطرفی کا مقصد کمپنی کو زیادہ متحرک، جدید اور تیز رفتار کاروباری ماحول سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ یہ کمی مجموعی عالمی افرادی قوت کا تقریباً چار فیصد بنتی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ 2 جولائی 2025 کو کیا گیا، جو حالیہ مہینوں کے دوران عمل میں آنے والی تنظیمی تبدیلیوں کا تیسرا مرحلہ ہے۔

مائیکروسافٹ کے گیمنگ شعبے کے سربراہ فِل اسپینسر نے اس ضمن میں اپنے عملے کو جاری کردہ ایک میمو میں واضح کیا کہ گیمنگ انڈسٹری میں پائیدار کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ بعض شعبوں کو محدود یا ختم کیا جائے، جب کہ انتظامی سطحوں کو کم کر کے فیصلہ سازی اور کارکردگی کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

ماہرین کے مطابق ملازمین کی اس بڑے پیمانے پر برطرفی کے پسِ پردہ ایک اہم محرک مصنوعی ذہانت (AI) کا بڑھتا ہوا استعمال بھی ہے۔ مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ستیہ نڈیلا نے حالیہ بیانات میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ کمپنی کے تقریباً 20 سے 30 فیصد سافٹ ویئر کوڈز اب AI کی مدد سے تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مائیکروسافٹ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ AI انفراسٹرکچر کو وسعت دے رہا ہے تاکہ مستقبل میں کمپنی کی پیداواری صلاحیت مزید بہتر بنائی جا سکے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ مائیکروسافٹ واحد ادارہ نہیں جو عملے میں کمی کر رہا ہے؛ گوگل، ایمازون، میٹا اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی حالیہ مہینوں میں ہزاروں ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر چکی ہیں۔ ان سب کا مشترکہ ہدف کاروباری نظام کو زیادہ خودکار، کم خرچ اور AI پر مبنی ماڈلز کے مطابق ترتیب دینا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ مائیکروسافٹ کی حالیہ حکمت عملی اس بڑی تبدیلی کا حصہ ہے جس کے تحت روایتی کارپوریٹ ڈھانچے کی جگہ ٹیکنالوجی مرکز نظام لے رہا ہے، جہاں کم افراد کے ساتھ زیادہ کام کی صلاحیت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ مائیکروسافٹ نے اس سے قبل 2023 میں بھی 10 ہزار ملازمین کو فارغ کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟

امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔

اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔

امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔

اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف