پی ٹی آئی کان لیگ میں جانیوالے 4ایم این ایز کیخلاف ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
پی ٹی آئی کان لیگ میں جانیوالے 4ایم این ایز کیخلاف ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 3 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف نے اپنے حمایت یافتہ 4 ارکان قومی اسمبلی کی (ن)لیگ میں شمولیت کے معاملے پر اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کرلیا۔26 ویں آئینی ترمیم کے موقع پر پی ٹی آئی کے 4 حمایت یافتہ ارکان نے پارٹی پالیسی سے اختلاف کیا تھا جس کے بعد اب پی ٹی آئی نے بھی منحرف اراکین اسمبلی کے خلاف اسپیکر کو ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کے مطابق 4اراکین میں چوہدری عثمان علی، مبارک زیب، اورنگزیب کھچی اور ظہور قریشی شامل ہیں جنہوں نے 26 ویں آئینی ترمیم میں ووٹ دیا، ان کے خلاف سفارشات مرتب کی ہیں۔اسد قیصر نے کہا کہ جن ارکان نے (ن)لیگ میں شمولیت اختیار کی یہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر جیتے تھے، پارٹی کو کہا ہے کہ ان 4ارکان کے خلاف نااہلی کا ریفرنس اسپیکر اور الیکشن کمیشن کو بھجوایا جائے ،دیکھتے ہیں وہ کیا کارروائی کرتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئیسکو کے محرم الحرام خصوصا یوم عاشورہ کے دوران بلا تعطل بجلی فراہمی کے انتظامات مکمل آئیسکو کے محرم الحرام خصوصا یوم عاشورہ کے دوران بلا تعطل بجلی فراہمی کے انتظامات مکمل خیبرپختونخوا میں عدم اعتماد بارے کوئی تجویز کسی سطح پر زیر بحث نہیں،عرفان صدیقی معیشت میں شفافیت لانے کیلئے ڈیجیٹل ٹرانزیکشن سسٹم ناگزیر ہے،وزیراعظم چیئرمین جوائنٹ چیفس ساحر شمشاد سے جنوبی افریقا کی فضائیہ کے سربراہ کی ملاقات رہنما تحریک انصاف اسد قیصر کی سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات ایئر چیف مارشل کا اسپیکر قومی اسمبلی کو اظہارِ تشکر کا خط، پارلیمانی کردار کی تعریفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کا فیصلہ لیگ میں
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی