لانڈھی یونس مل کے قریب بس کی ٹکر سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا جبکہ مین کورنگی روڈ پر واٹر ٹینکر نے موٹر سائیکل نوجوان کو روند ڈالا جس کے نتیجے میں نوجوان کا پاؤں شدید زخمی ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق لانڈھی یونس مل کے قریب ٹریفک حادثے میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا جس کی لاش چھیپا کے رضا کاروں نے ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کی۔

 ایس ایچ او قائد آباد خوشی محمد نے بتایا کہ متوفی کی شناخت 43 سالہ شمس الدین کے نام سے کی گئی جو کہ موٹر سائیکل پر سوار تھا جبکہ حادثہ بس کی ٹکر پیش آیا ہے جس کا ڈرائیور موقع سے بس چھوڑ کر فرار ہوگیا جبکہ بس کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیکر تھانے منتقل کر دیا اس حوالے سے پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

ڈیفنس مین کورنگی روڈ اختر کالونی بس اسٹاپ کے قریب تیز رفتار واٹر ٹینکر نے موٹر سائیکل سوار کو روند ڈالا جس کی نتیجے میں نوجوان پاؤں بری طرح سے کچل گیا، حادثے کے بعد ڈرائیور واٹر ٹینکر چھوڑ کر موقع سے فرار ہوگیا۔

حادثے کے بعد مشتعل افراد نے جمع ہوکر واٹر ٹینکر کے شیشے توڑ دیے جبکہ زخمی نوجوان کو چھیپا کے رضا کاروں ںے فوری طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دیا جبکہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر حادثے کے ذمہ دار واٹر ٹینکر کو اپنے قبضے میں لیکر تھانے منتقل کر دیا۔

اس موقع پر شہریوں کا کہنا تھا کہ ایک جانب ٹریفک پولیس کے اہلکار غول اور ٹولیوں کی شکل میں موٹر سائیکلوں پر فرمائشی نمبر پلیٹ کی آڑ میں شہریوں کے جبری چالان کرنے میں مصروف دکھائی دیتی ہے تو دوسری جانب شہر میں ہیوی ٹرانسپورٹ شہریوں کو روند رہی اور ان حادثات میں شہری زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے ٹریفک پولیس کے افسران سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے استفسار کیا ہے کہ جس طرح سے موٹر سائیکل اور کار کے لیے مخصوص سائز کی آگے اور پیچھے کی نمبر پلیٹ ایکسائز سے حاصل کر کے لگانا لازمی قرار دیا جا رہا ہے اور نہ لگانے پر چالان اور جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں کیا پبلک اور کمرشل گاڑیوں پر بھی نمایاں طور پر رجسٹریشن نمبر پلیٹ لگائی جائینگی یا صرف یہ پابندی شہر قائد کے باسیوں پر ہی لاگو ہوتی ہے۔

شہریوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین کا احترام سب پر لازم ہے اور خلاف ورزی پر قانونی کارروائی بھی عمل میں آنا چاہیے لیکن شہر میں چلنے والی خستہ حال کوچز ، منی بسوں  ، بسوں ، واٹر ٹینکرز کے علاوہ ڈمپرز سمیت دیگر ہیوی گاڑیوں پر نمبر پلیٹ بھی نمایاں طور دکھائی نہیں دیتی جبکہ ہیوی گاڑیوں سے ہونے والے جان لیوا حادثات کے بعد موقع سے ڈرائیور گاڑی سمیت فرار بھی ہو جاتا ہے اور گاڑی کے عقب میں لگی نمبر پلیٹ اتنی واضح نہیں ہوتی کہ اس کا نمبر نوٹ کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے ہیوی گاڑیوں کی ایسوسی ایشن کے ہمراہ اجلاسوں میں انھیں جس بات کا پابند کیا گیا ہے اس پر اب تک کس حد تک عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا ہے ؟ ، شہر میں ہیوی ٹریفک کے داخلے کے اوقات میں ہیوی گاڑیاں سڑکوں پر جس تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئی دکھائی دیتی ہے اس کے چیک اینڈ بیلنس کا کوئی پیمانہ نہیں ہے ، رات میں ان ہیوی گاڑیوں کے ڈرائیور تیز رفتاری کے ساتھ ڈرائیونگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں انھیں پابند کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔

شہریوں نے کہا کہ  ٹریفک پولیس افسران اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ شہر میں ہیوی ٹریفک کے داخل ہونے اور ان کی ڈرائیونگ کو چیک کرنے کے لیے ٹریفک پولیس کے ہر ڈسٹرکٹ میں ویجلینس ٹیموں کو تشکیل دیا جائے تاکہ ہیوی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو بھی اس بات کا یقین ہو کہ انھیں بھی اس وقت کوئی دیکھنے والا ہے۔

شہریوں نے آئی جی سندھ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ تھانوں کی سطح علاقے میں موٹر سائیکل گشت کرنے والے اہلکاروں پر بھی ایک نظر ڈال لیں کہ وہ آپ کی دی ہوئی ہدایات کی کس طرح سے دھجیاں اڑا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا