سعودی عرب میں امریکی میزائل ڈیفنس سسٹم ’تھاڈ‘ مکمل طور پر فعال
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
سعودی عرب میں تعینات امریکی ساختہ جدید ترین میزائل دفاعی نظام ’تھاڈ‘ (THAAD) کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ اس نظام کی پہلی بیٹری نے باقاعدہ کام کرنا شروع کردیا ہے۔
امریکی سینٹ کمانڈ کے سربراہ جنرل ایرک کوریلا نے اس حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے سعودی فوجی افسران اور دیگر حکام کو مبارکباد دی ہے۔ یہ نظام سعودی عرب کی فضائی سلامتی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
تھاڈ (ٹرمینل ہائی ایلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس) ایک جدید ترین میزائل روک تھام کا نظام ہے جو مختصر اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کو فضائی میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی موثر رینج 200 کلومیٹر تک ہے، جبکہ یہ 150 کلومیٹر کی بلندی تک کام کر سکتا ہے۔
اس نظام کی تعیناتی خطے میں سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر بڑھانے کے لیے ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق تھاڈ سسٹم ہوائی خطرات سے نمٹنے کے لیے انتہائی موثر ثابت ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔