کراچی میں 9 محرم الحرام کا مرکزی جلوس اختتام پذیر ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
جلوس کے شرکاء نے مولانا صادق جعفری کی اقتداء میں امام بارگاہ علی رضا پر نماز ظہرین ادا کی، جلوس کے شرکاء نوحہ خوانی کرتے رہے۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن سمیت اعلیٰ حکام نے جلوس کا دورہ کیا۔ جلوس کی گزرگاہوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی میں نو محرم الحرام کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا، جلوس کے راستوں میں موبائل فون سروس معطل رہی۔ جلوس روایتی راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان کھارادر پر اختتام پذیر ہوا۔ حضرت امام حسین علیہ السلام اور ساتھیوں کی لازوال قربانی کو یاد کرتے ہوئے 9 محرم الحرام کی مرکزی مجلس نشتر پارک میں ہوئی۔ علامہ شہنشاہ نقوی نے مجلس سے خطاب کیا اور نواسہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی عظیم قربانی اور تعلیمات پر روشنی ڈالی۔ مجلس کے بعد مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا، جلوس کے شرکاء نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور ایران میں حالیہ اسرائیلی اور امریکی جارحیت کیخلاف احتجاج کیا۔ اسرائیل، امریکا اور بھارت کیخلاف نعرے لگائے، لاپتا افراد کی بازیابی کیلئے بھی احتجاج کیا گیا۔
شرکاء نے مولانا صادق جعفری کی اقتداء میں امام بارگاہ علی رضا پر نماز ظہرین ادا کی، جلوس کے شرکاء نوحہ خوانی کرتے رہے۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن سمیت اعلیٰ حکام نے جلوس کا دورہ کیا۔ جلوس کی گزرگاہوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، ایم اے جناح روڈ کے اطراف کی تمام گلیوں کو کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا، راستے میں آنے والی تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بھی سیل کیے گئے۔ جلوس مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیان کھارادر پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔