گلگت بلتستان؛ چلاس اور بونجی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
چلاس:
گلگت بلتستان کے علاقے چلاس اور بونجی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ بن گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق چلاس اور بونجی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ بن گیا اور 28 سال پہلے بننے والا گرمی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے مرکزی شہر چلاس میں 5 جولائی کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 48.
محکمہ موسمیات ضلع استورکے علاقے بونجی میں 5 جولائی 2025 کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 46.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، اس سے قبل زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کا ریکارڈ 12 جولائی 1971 کو 45.6 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ پاکستان کے شمالی خطے میں مسلسل شدید گرمی اور زیادہ درجہ حرارت گلیشیر پگھلنے میں تیزی کا باعث بن سکتا ہے۔
حکام اور شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے محکمہ موسمیات نے کہا کہ آئندہ ہفتے کے دوران شمالی علاقوں میں اور پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں اور اس حوالے سے محکمہ موسمیات نے 4 جولائی 2025 کو بھی آگاہ کر دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کا محکمہ موسمیات نے ڈگری سینٹی گریڈ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔