چلاس:

گلگت بلتستان کے علاقے چلاس اور بونجی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ بن گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق چلاس اور بونجی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ بن گیا اور 28 سال پہلے بننے والا گرمی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔

محکمہ موسمیات نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے مرکزی شہر چلاس میں 5 جولائی کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 48.

5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ اس سے قبل چلاس میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 17 جولائی 1997 کو 47.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

محکمہ موسمیات ضلع استورکے علاقے بونجی میں 5 جولائی 2025 کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 46.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، اس سے قبل زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کا ریکارڈ 12 جولائی 1971 کو 45.6 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔

محکمہ موسمیات نے بتایا کہ پاکستان کے شمالی خطے میں مسلسل شدید گرمی اور زیادہ درجہ حرارت گلیشیر پگھلنے میں تیزی کا باعث بن سکتا ہے۔

حکام اور شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے محکمہ موسمیات نے کہا کہ آئندہ ہفتے کے دوران شمالی علاقوں میں اور پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں اور اس حوالے سے  محکمہ موسمیات نے 4 جولائی 2025 کو بھی آگاہ کر دیا تھا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کا محکمہ موسمیات نے ڈگری سینٹی گریڈ

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر