سیاسی کشیدگی کے سائے: بھارت-بنگلہ دیش کرکٹ سیریز 2026 تک مؤخر کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
کرکٹ کے شائقین کےلیے افسوسناک خبر آئی ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والی 6 میچوں پر مشتمل وائٹ بال سیریز کو 2026 تک کےلیے ملتوی کردیا گیا ہے۔
بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والی یہ سیریز جو کہ 17 اگست سے ڈھاکا میں شروع ہونی تھی، اس میں تین ایک روزہ اور تین ٹی20 میچز شامل تھے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) اور بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ’’دونوں ٹیموں کی عالمی کرکٹ مصروفیات اور شیڈول کو مدنظر رکھتے ہوئے‘‘ کیا گیا ہے۔ تاہم، سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ گزشتہ سال کی سیاسی تبدیلیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرد مہری نے اس فیصلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
???? NEWS ????
Rescheduling of India’s white-ball Tour of Bangladesh.
Details ???? #TeamIndiahttps://t.co/qaOWJBgJdu — BCCI (@BCCI) July 5, 2025
گزشتہ سال اگست میں بنگلہ دیش میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے بعد سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے نئی دہلی منتقل ہونا پڑا تھا۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس دور میں حکومتی کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بی سی بی نے اپنے بیان میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ ستمبر 2026 میں بھارت کے دورے کے لیے پرامید ہیں، جبکہ میچز کے حتمی شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ یہ دورہ بنگلہ دیش میں 2026 کے اوائل میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد ہوگا۔
کرکٹ کے حلقوں میں اس فیصلے کو دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ سیاسی تعلقات کی ایک اور علامت سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم، کرکٹ بورڈز کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ محض شیڈولنگ کے مسائل کی وجہ سے کیا گیا فیصلہ ہے۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق، دونوں ٹیمیں اپنی اپنی بین الاقوامی مصروفیات پر توجہ مرکوز کریں گی، جبکہ 2026 میں ہونے والی سیریز کے لیے نئے شیڈول پر کام جاری ہے۔ کرکٹ شائقین کو امید ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی حالات بہتر ہوں گے اور یہ سیریز بغیر کسی مزید رکاوٹ کے منعقد ہو سکے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والی گیا ہے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔