کراچی:

لیاری کے علاقے بغداری میں منہدم ہونے والی عمارت کے واقعے میں 16 ہندو جاں بحق ہوئے جبکہ مزید پانچ افراد کی ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بغدادی لیاری میں گرنے والی بلڈنگ میں جاں بحق ہونے والے 16 ہندووں کا تعلق کچھی مہیشوری میگھواڑ ہندوبرادری سے تھا۔

ہفتےکی شام 25سالہ مہیشوری، روہیت اوران کی اہلیہ گیتا کی لاش بھی ملبے سے نکل لی گئی۔  

حکام کے مطابق منہدم ہونے عمارت میں 20 سے زائد ہندو افراد مقیم تھے، ممکنہ طورپر 5 مزید افراد ملبے میں موجود ہیں۔

ہلاک ہونے والے ہندوؤں کی آخری رسومات  اور انتم سنسکارکمھار واڑہ کچھی ہال میں ادا کی جائیں گی جس کے بعد متیوں کواگنی سنسکارکے بجائےمواچھ گوٹھ کے قدیم ہندوقبرستان میں دفنایا جائے گا۔

کمیونٹی کے سربراہ نے بتایا کہ ہفتے کی دوپہرتک 14مرد و خواتین ہندو برادری کی لاشیں ملبے سے نکالی جاچکی تھیں،تاہم ہفتے کی شام بلڈنگ میں رہائش پذیر25سالہ روہیت اوران کی اہلیہ گیتا کی لاشیں ملنے کے بعد اب تک ملنے والی ہندوبرادری کی لاشوں کی تعداد 16ہوگئیں۔

میاں،بیوی کی لاشیں ملنے کے بعد بلڈنگ کے کمپاؤنڈ میں موجود روہیت کی پھوپھی اورچچی اوردیگرعزیزواقارب کی ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔

اہل خانہ کےمطابق روہیت کے والد صبح سویرے کام پرنکل گئے اس لیے وہ اس حادثے میں محفوظ رہے،تاہم گھرکے 5 افراد حادثے کے وقت گھر میں موجود تھے جو حادثے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔

حادثے کے نتیجے میں مرنے والوں میں دیا لال شیوجی،پربائی کشن سوندھا،پرانٹیک ہرسی سوندھا،پریم کشن سوندھا، وندانا کیلاش، ارچنا وشال، کشن دیالال، ایوش جمنا داس، شانی جمنا ونجوڑا، کیلاش جمنا ونجوڑا، اوشا کیلاش، پرکاش شیوجی، چیتن شیوجی، روہیت اورگیتا شامل ہیں۔

جاں بحق ہندووں کی لاشیں موسی لین میں واقع بلقیس ایدھی میٹرنٹی ہوم کے بالمقابل سرد خانےمیں رکھی گئی ہیں جبکہ غمزدہ خاندان بلقیس ایدھی اسپتال سے متصل مسلم کچھی جماعت خانہ میں موجود ہیں۔

ہندوبرادری کی ترجمان ریما مہیشوری کےمطابق مرنے والے افراد میں سے بیشترکا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے،ان کی تدفین مواچھ گوٹھ کے قریب قدیم ہندو قبرستان کی جائے گی۔

ریما کے مطابق اب تک کی مشاورت کے مطابق آج(اتوار)کوآخری رسومات اورتدفین ہوگی، ریما کے مطابق کچھی مہیشوری برادری میں مردوں کا اگنی سسنکار یعنی انھیں جلایا نہیں جاتا بلکہ ان کی تدفین کی جاتی ہے۔

صدرکچھی مہیشوری میگھوار پنچائہت لکشمن موراج بگرا کے مطابق یہ انتہائی دردناک سانحہ ہے،جس کو لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے کیونکہ ہنستے بستے اورزندگی کی رعنائیوں سے بھرپورگھرانے اچانک ملبے کا ڈھیربن گئے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ان متاثرہ خاندانوں کی بحالی کےلیے ممکنہ اقدامات کویقینی بنائے۔ ان کا کہنا  ہے کہ بلڈنگ میں مہیشوری ہندووں کی قیام پذیرتعداد 20 سے زائد تھی،16لاشیں مل چکی ہیں جبکہ 4 یا اس زائد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

لکشمن موراج کے مطابق بلڈنگ حادثے میں 2 خواتین زخمی بھی ہوئی ہیں جوکہ اسپتال میں زیرعلاج ہیں،ان کا کہناہے کہ بلڈنگ میں غیرمعمولی حالات پیدا ہونے کے بعد کچھ لوگ باہرنکل گئے تھے جبکہ چند ایک واپس لوٹ گئے،جوحادثے کا شکارہوئے۔

پنچ مکھی ہنومان مندرکے گدی پتی مہاراج رام ناتھ کا ایکسپریس نیوزسے گفتگومیں کہناتھا کہ المناک حادثے پرانہیں دکھ ہوا،غم سے نڈھال خاندانوں کے ساتھ ہیں،حکومت سےاپیل کرتے ہیں کہ متاثرہ خاندانوں کومتبادل جگہ فراہم کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بلڈنگ میں کے مطابق کی لاشیں کے بعد

پڑھیں:

فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا

بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔

فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔

ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔

متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔

سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔

ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔

سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔

اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔

خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔

ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔

ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔

2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔

استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔

امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔

اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم