غلط بیانی پر وزیراعظم نااہل ہوسکتا ہے تو ایوان کو تماشا بنانے والے کیوں نہیں، ملک احمد خان
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ غلط بیانی پر ملک کے وزیراعظم کو نااہل کیا جاسکتا ہے تو ایوان کو تماشا بنانے والوں کو کیوں نہیں کیا جاسکتا۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بغیر نام لیے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپ کی سیاسی جماعت غنڈہ گردی چاہتی ہے جو سڑک پر ہوتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو تو پھانسیاں دی گئیں، ماؤں اور بیویوں کے جنازے اٹھے، کیا اس کی گواہی اسمبلیاں ہوں گی یہ تو میرا سوال ہے، اگر پارلیمانی پارٹی بیٹھ کر بات نہیں کرے گی تو 63 ٹو کا فیصلہ سامنے آ جائے گا۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اسمبلی میں آنے سے پہلے اور بعد کے معاملات الگ الگ ہیں، اسمبلی میں تقریر ، پارلیمانی روایات کو پسند کرتا ہوں، کیا صرف آپ کی گالی دینا ہی صلاحیت ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ جس سے نوازشریف گھر گیا یہ اچھا فیصلہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پانامہ کیس میں بالکل واضح لکھا ہے کہ ممبران کی جانب سے حلف کی خلاف ورزی پر اسپیکر الیکشن کمیشن کو نااہلی کےلیے ریفرنس بھیجے گا، پینتیس سال سے غنڈہ گردی کو بریک لگنی چاہیئے، تیس دن کے اندر اندر فیصلہ کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا حسن بات چیت ہے، حکومت و اپوزیشن سے کہوں گا الفاظ کی حرمت کو مت بھولیں سیاست بات چیت کا نام ہے مرنے مارنے کا نام نہیں ہے، غلط بیانی پر وزیراعظم کو نااہل کیا جاسکتا ہے تو ایوان کو تماشا بنانے والوں کو کیوں نہیں کیا جاسکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کیا جاسکتا نے کہا
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔