اسپین کی عدالت کا اسرائیلی وزیراعظم کیخلاف جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میڈرڈ: اسپین کی نیشنل کورٹ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، وزیر خارجہ اسرائیل کاٹس اور متعدد اعلیٰ فوجی حکام کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر فوجداری تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق یہ اقدام خاص طور پر گزشتہ ماہ ایک انسانی امدادی جہاز پر اسرائیلی حملے کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے، عدالت کی کارروائی عالمی دائرہ اختیار (Universal Jurisdiction) کے اصول کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔
اسپینی رکن یورپی پارلیمنٹ جاؤم اسانس (Jaume Asens) نے سوشل میڈیا پر اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ استثنا کے خلاف جدوجہد میں ایک بڑا قدم ہے، جب ریاستیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہیں تو سویلین سوسائٹی کو چاہیے کہ وہ انصاف کو ایک اخلاقی، قانونی اور سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرے۔
خیال رہےکہ یکم جون کو اسرائیلی افواج نے ایک امدادی جہاز “مدلین” (Madleen) کو بین الاقوامی پانیوں میں روکا اور اس پر سوار 12 عالمی رضاکاروں کو حراست میں لیا، اس جہاز پر غزہ کے لیے انسانی امداد بھی موجود تھی۔
حراست میں لیے جانے والوں میں نمایاں نام شامل ہیں، جن میں گریٹا تھنبرگ سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن، ریما حسن فرانسیسی فلسطینی انسانی حقوق کی وکیل امدادی جہاز کے عملے میں شریک تھیں۔
واضح رہےکہ یہ کیس اسپینی شہری سرجیو ٹوریبیو اور تنظیم کمیٹی فار سالیڈیریٹی ود عرب کاز کی جانب سے عدالت میں دائر کیا ، جس میں اسرائیل پر الزام ہے کہ اس نے ڈرونز، آنسو گیس اور غیر قانونی حراست جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے، جو غزہ میں جاری وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا حصہ ہیں۔
یاد رہےکہ عدالت نے یہ کارروائی انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (ICC) کے ساتھ تعاون کی درخواست کے ساتھ شروع کی ہے اور واقعے کو غزہ میں جاری نسل کشی کے سیاق و سباق میں پرکھا جا رہا ہے،
یہ پہلا موقع ہے کہ اسپین نے اسرائیلی قیادت کے خلاف غزہ جنگ سے متعلق باضابطہ فوجداری تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔
ابھی تک اسرائیلی حکومت نے اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا ہے، بین الاقوامی سطح پر اس اقدام کو ایک اہم قانونی اور علامتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
.ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
وائٹ ہاؤس کے قریب افغان دہشتگرد کا حملہ، ایف بی آئی نے تحقیقات شروع کر دیں
وائٹ ہاؤس سے چند بلاکس کے فاصلے پر نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات ایف بی آئی کی جوائنٹ ٹیررزم ٹاسک فورس نے شروع کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وائٹ ہاؤس کے نزدیک فائرنگ، نیشنل گارڈ کے 2 اہلکار شدید زخمی، مشتبہ افغان حملہ آور گرفتار
رائٹرز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ حملہ گھات لگا کر کیا گیا اور یہ واقعہ تھینکس گیونگ سے ایک روز قبل پیش آیا۔
حملے میں 2 اہلکار شدید زخمیحملے میں شدید زخمی ہونے والے دونوں نیشنل گارڈ اہلکار اس مشن کا حصہ تھے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات پر دارالحکومت میں قانون نافذ کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ دونوں اہلکاروں کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔
گولیوں کے تبادلے میں زخمی ہونے والے اور بعد ازاں گرفتار کیے گئے حملہ آور کی شناخت محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے رحمان اللہ لکنوال کے نام سے کی۔ مذکورہ دہشتگرد افغان نژاد ہے اور 2021 میں Operation Allies Welcome پروگرام کے تحت امریکا آیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق لکنوال افغان فوج میں 10 سال تک خدمات انجام دے چکا ہے اور قندھار میں امریکی اسپیشل فورسز کے ساتھ تعینات رہا۔
اس کے ایک رشتے دار کے مطابق وہ آخری بار ایمیزون میں ملازم تھا۔
مزید پڑھیے: وائٹ ہاؤس کے نزدیک نیشنل گارڈز پر فائرنگ کرنیوالا رحمان اللہ لکنوال کون ہے؟
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق لکنوال نے دسمبر 2024 میں امریکا میں پناہ کی درخواست دی تھی جو 23 اپریل کو منظور ہوئی۔
صدر ٹرمپ کا سخت ردِعملصدر ٹرمپ، جو حملے کے وقت فلوریڈا میں تھے، نے ایک ویڈیو بیان میں اسے شر انگیزی، نفرت اور دہشتگردی کا عمل قرار دیا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ بائیڈن دور میں آنے والے تمام افغان شہریوں کی سیکیورٹی جانچ پڑتال دوبارہ کی جائے گی۔
اسی دوران یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ غیر معینہ مدت تک کے لیے روک دی۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟فائرنگ دوپہر کے وقت ایک مصروف علاقے میں سب وے اسٹیشن کے باہر ہوئی۔
مزید پڑھیں: کیا امریکیوں پر حملہ آور افغان دہشتگرد سی آئی اے کے لیے خدمات انجام دیتا رہا؟
پولیس کے مطابق حملہ آور اچانک ایک کونے سے نکلا، اس نے ہتھیار نکالا اور نیشنل گارڈ اہلکاروں پر براہ راست فائرنگ کر دی۔
جوابی کارروائی میں وہ زخمی ہوا اور دیگر گارڈ اہلکاروں نے اسے حراست میں لے لیا۔
حملے کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس کو سیکیورٹی لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔
مزید فوج تعینات کرنے کی درخواستوزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق صدر نے واشنگٹن ڈی سی میں پہلے سے تعینات 2 ہزار نیشنل گارڈ اہلکاروں کے علاوہ مزید 500 فوجی بھیجنے کی درخواست کی ہے۔
سیاسی ردعملنائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ واقعہ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کی درستگی ثابت کرتا ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی پالیسی ضرورت سے زیادہ سخت ہے اور بعض قانونی تارکین وطن کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مقامی انتظامیہ کا مؤقفواشنگٹن ڈی سی کی میئر میوریل باؤزر نے اسے ٹارگٹڈ شوٹنگ قرار دیا۔
میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق دہشتگرد حملہ آور اکیلا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل کر دیں
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک وفاقی جج نے چند روز قبل نیشنل گارڈ اہلکاروں کو میئر کی اجازت کے بغیر قانون نافذ کرنے کے اختیارات دینے کے حکومتی فیصلے پر عارضی پابندی لگائی تھی جس کا نفاذ دسمبر تک مؤخر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان دہشتگرد رحمان اللہ لکنوال رحمان اللہ لکنوال وائٹ ہاؤس حملہ