حوصلہ کریں، سانس لیں: بلاول بھٹو نے بار بار ٹوکنے پر بھارتی صحافی کی میٹھی میٹھی کلاس لے لی
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
سابق وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی صحافی کرن تھاپر کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران تحمل، سنجیدگی اور اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے مؤدبانہ انداز میں انہیں خاموش کرا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے کسی گروہ کو بھارت پر حملے کی اجازت نہیں دی، بلاول بھٹو کا کرن تھاپر کو انٹرویو
انٹرویو کے دوران کرن تھاپر نے بارہا بلاول بھٹو کی بات کاٹنے کی کوشش کی اور جانبدارانہ سوالات کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی روش اپنائی۔
گفتگو کا آغاز بھارت میں دہشتگردی سے متعلق پاکستان پر لگائے گئے پرانے الزامات سے ہوا۔ جیسے ہی بلاول بھٹو نے منطقی جواب دینا شروع کیا، کرن تھاپر نے بار بار مداخلت کی۔
قریباً 50 منٹ طویل اس ویڈیو میں کرن تھاپر نے کئی مواقع پر بلاول بھٹو کو بات مکمل نہ کرنے دی اور غیر متعلقہ انداز میں سوال دہراتے رہے۔
اس تمام صورتحال میں بلاول بھٹو زرداری نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور اشتعال انگیزی کا جواب نرمی سے دیتے ہوئے کہا ’بھائی میں آرہا ہوں اس نکتہ پر، کوئی بات نہیں آپ حوصلہ کریں، سانس لیں۔‘
بعد ازاں بلاول نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر وضاحت دیتے ہوئے کہاکہ وہ بھارتی میڈیا پر منصفانہ گفتگو کی امید لے کر انٹرویو میں شریک نہیں ہوئے تھے۔
My interview with Karan Thapar should be out later today.
I chose to give an interview to Indian media, not because I expected a fair platform, but because I believe in the people of India, especially…
— BilawalBhuttoZardari (@BBhuttoZardari) July 9, 2025
بلاول بھٹو نے کہاکہ میں نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو اس لیے دیا کہ مجھے بھارت کے عوام، خاص طور پر نوجوان نسل پر یقین ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے خطے میں امن کا مقدمہ صرف پاکستان کا مقصد نہیں بلکہ دونوں اقوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ’میرا یقین ہے کہ بھارت اور پاکستان کی نئی نسلیں مل کر ایک نئی تقدیر کی تشکیل کر سکتی ہیں۔‘
انہوں نے زور دیا کہ ہم وہ نسل بنیں گے جو تاریخ کی زنجیریں توڑے گی، جنگ کے سوداگروں، مایوس سوچ رکھنے والوں اور نفرت پھیلانے والوں کی راہ میں رکاوٹ بنے گی۔ ہم ایک ساتھ ان حقیقی چیلنجز کا سامنا کریں گے جن میں دہشتگردی، ماحولیاتی تبدیلی اور عدم مساوات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نیو نارمل قائم کرنا چاہتا ہے مگر یہ کسی کے مفاد میں نہیں، بلاول بھٹو
آخر میں بلاول بھٹو زرداری نے بھارت اور پاکستان کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہ میرا وعدہ ہے کہ ہمارا مستقبل ماضی کے تنازعات سے نہیں بلکہ ایک نئی تقدیر سے وابستہ ہوگا جو پرامن بقائے باہمی، باہمی تعاون اور مشترکہ خوشحالی پر مبنی ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارتی صحافی سنجیدگی کرن تھاپر کلاس لے لی وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی صحافی سنجیدگی کرن تھاپر کلاس لے لی وی نیوز بلاول بھٹو کرن تھاپر
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی(BJP) کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
مزیدپڑھیں:انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔