واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکا کی معروف چپ ڈیزائنر کمپنی نویڈیا (Nvidia) نے 4 کھرب ڈالرز کی مارکیٹ ویلیو حاصل کرکے یہ سنگ میل عبور کرنے والی دنیا کی پہلی کمپنی بن گئی ہے۔
بدھ کے روز کمپنی کے حصص میں 2.5 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد اسٹاک کی قیمت 164 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہے۔
نویڈیا نے جون 2023 میں پہلی بار ایک کھرب ڈالر کی مالیت حاصل کی تھی، اور صرف ایک سال کے اندر اس نے اپنی قدر 3 گنا بڑھا لی جو ایپل اور مائیکروسافٹ جیسی کمپنیوں سے بھی زیادہ تیزی سے ہوئی پیش رفت ہے۔
ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں نویڈیا کا حصہ سب سے زیادہ 7.
ایل ایس ای جی ڈیٹا کے مطابق انویڈیا کی مالیت اب کینیڈا اور میکسیکو کی تمام اسٹاک مارکیٹس کی مجموعی مالیت سے بھی زیادہ ہے اور یہ برطانیہ کی تمام عوامی سطح پر درج کمپنیوں کی کل مالیت سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔
مائیکروسافٹ اس وقت امریکا کی دوسری بڑی کمپنی ہے، جس کی مارکیٹ ویلیو 3.75 کھرب ڈالر ہے۔ مائیکروسافٹ کے حصص بھی 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 503 ڈالر پر پہنچ گئے ہیں۔
مزیدپڑھیں:مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کا روح پرور غسل کی تقریب
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔