Jasarat News:
2026-06-03@08:34:17 GMT

ایپل کے نئے چیف آپریٹنگ آفیسر صبیح خان کون ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT

ایپل کے نئے چیف آپریٹنگ آفیسر صبیح خان کون ہیں؟

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایپل انکارپوریٹڈ (AAPL.O) نے صبیح خان کو کمپنی کا نیا چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) مقرر کر دیا ہے، جو اس عہدے پر جیف ولیمز کی جگہ لیں گے۔

اگرچہ جیف ولیمز اب بھی ایپل کے سی ای او ٹم کُک کو رپورٹ کرتے رہیں گے اور ڈیزائن ٹیم سمیت ایپل واچ کے منصوبوں کی نگرانی جاری رکھیں گے، تاہم اُن کی متوقع ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیزائن ٹیم براہِ راست ٹم کُک کو رپورٹ کرے گی۔

صبیح خان کا پس منظر:

ایپل کے نئے سی او او صبیح خان گزشتہ 30 برسوں سے کمپنی سے وابستہ ہیں اور اس وقت سینئر وائس پریزیڈنٹ آف آپریشنز کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

صبیح خان بھارت کے شہر مرادآباد، اتر پردیش میں 1966 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنا بچپن سنگاپور میں گزارا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ منتقل ہو گئے۔ انہوں نے ٹفٹس یونیورسٹی سے اکنامکس اور مکینیکل انجینئرنگ میں بیچلرز، جبکہ رینسلیئر پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ سے مکینیکل انجینئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

ایپل سے قبل صبیح خان GE پلاسٹکس میں ایپلیکیشنز ڈویلپمنٹ انجینئر اور کی اکاؤنٹ ٹیکنیکل لیڈر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔

ایپل کی ویب سائٹ کے مطابق وہ کمپنی کی عالمی سپلائی چین کے بھی انچارج ہیں۔ ایک آفیشل پریس ریلیز میں ایپل کے سی ای او ٹِم کُک نے صبیح خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا:

“صبیح ایک شاندار منتظم ہیں، جنہوں نے ایپل کی سپلائی چین کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔ اُن کی قیادت میں ہم نے ماحولیاتی پائیداری کے اہم اہداف حاصل کیے، جس کے نتیجے میں ایپل کا کاربن فٹ پرنٹ 60 فیصد سے زیادہ کم ہوا ہے۔”

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایپل کے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • تمام ایپل ڈیوائسز پر یکساں تجربہ، واٹس ایپ کا یونیفائیڈ ڈیزائن پلان سامنے آ گیا
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ