Jasarat News:
2026-07-24@14:04:40 GMT

ایپل کے نئے چیف آپریٹنگ آفیسر صبیح خان کون ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT

ایپل کے نئے چیف آپریٹنگ آفیسر صبیح خان کون ہیں؟

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایپل انکارپوریٹڈ (AAPL.O) نے صبیح خان کو کمپنی کا نیا چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) مقرر کر دیا ہے، جو اس عہدے پر جیف ولیمز کی جگہ لیں گے۔

اگرچہ جیف ولیمز اب بھی ایپل کے سی ای او ٹم کُک کو رپورٹ کرتے رہیں گے اور ڈیزائن ٹیم سمیت ایپل واچ کے منصوبوں کی نگرانی جاری رکھیں گے، تاہم اُن کی متوقع ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیزائن ٹیم براہِ راست ٹم کُک کو رپورٹ کرے گی۔

صبیح خان کا پس منظر:

ایپل کے نئے سی او او صبیح خان گزشتہ 30 برسوں سے کمپنی سے وابستہ ہیں اور اس وقت سینئر وائس پریزیڈنٹ آف آپریشنز کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

صبیح خان بھارت کے شہر مرادآباد، اتر پردیش میں 1966 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنا بچپن سنگاپور میں گزارا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ منتقل ہو گئے۔ انہوں نے ٹفٹس یونیورسٹی سے اکنامکس اور مکینیکل انجینئرنگ میں بیچلرز، جبکہ رینسلیئر پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ سے مکینیکل انجینئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

ایپل سے قبل صبیح خان GE پلاسٹکس میں ایپلیکیشنز ڈویلپمنٹ انجینئر اور کی اکاؤنٹ ٹیکنیکل لیڈر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔

ایپل کی ویب سائٹ کے مطابق وہ کمپنی کی عالمی سپلائی چین کے بھی انچارج ہیں۔ ایک آفیشل پریس ریلیز میں ایپل کے سی ای او ٹِم کُک نے صبیح خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا:

“صبیح ایک شاندار منتظم ہیں، جنہوں نے ایپل کی سپلائی چین کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔ اُن کی قیادت میں ہم نے ماحولیاتی پائیداری کے اہم اہداف حاصل کیے، جس کے نتیجے میں ایپل کا کاربن فٹ پرنٹ 60 فیصد سے زیادہ کم ہوا ہے۔”

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایپل کے

پڑھیں:

ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ

تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔

دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال