data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وفاقی اینٹی کرپشن عدالت نے ٹڈاپ میگا کرپشن کیس میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی 9 مقدمات میں بریت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ جمعرات کو وفاقی اینٹی کورپشن عدالت میں ٹڈاپ میگا کرپشن کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے موقع پر یوسف رضا گیلانی اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ تمام مقدمات میں ایک ہی الزام ہے لیکن کسی گواہ نے ان کے خلاف بیان نہیں دیا۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ملزم
کے خلاف کال ریکارڈ موجود ہے تاہم عدالتی استفسار پر انہوں نے بتایا کہ کال ریکارڈ تاحال عدالت میں پیش نہیں کیے گئے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ کال ریکارڈ مقدمات کے شروع میں پیش کیے جانے چاہئیں تھے، ایف آئی اے نے شواہد کی فارنسک بھی نہیں کروائی، اس موقع پر شواہد ناقابل قبول ہیں۔ عدالت نے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی 9 مقدمات میں بریت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق ایف آئی اے نے ٹڈاپ کیس میں 26 مقدمات درج کیے تھے، جن میں یوسف رضا گیلانی پہلے ہی 3 مقدمات میں بری ہو چکے تھے۔ کیس میں ملزمان پر بوگس کمپنیاں بنا کر 7 ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔ دوسری جانب بریت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ 12 برس سے چلنے والے کیسز میں اب انصاف ملا، انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ انہوں نے صدر زرداری کی صحت اور عہدے سے ہٹائے جانے کو افواہیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت میں شمولیت کا فیصلہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے کرنا ہے۔ چینی کے بحران سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں چیئرمین سینیٹ نے واضح کیا کہ وہ حکومت کا حصہ یا حکومت کے ترجمان نہیں ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یوسف رضا گیلانی مقدمات میں

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی