متنوع تہذیبیں دنیا کی حقیقی فطرت ہیں، چینی صدر
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
متنوع تہذیبیں دنیا کی حقیقی فطرت ہیں، چینی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 10 July, 2025 سب نیوز
بیجنگ : چین کے صدر شی جن پھنگ نے عالمی تہذیبوں کے مکالمے پر وزارتی کانفرنس کو مبارکباد کا پیغام بھیجا ہے۔ جمعرات کے روز شی جن پھنگ نے اپنے پیغام میں کہا کہ متنوع تہذیبیں دنیا کی حقیقی فطرت ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تہذیب کی خوشحالی اور بنی نوع انسان کی ترقی تہذیبوں کے مابین تبادلوں اور باہمی سیکھ سے جڑی ہوئی ہیں۔صدر شی جن پھنگ کا کہنا تھا کہ اس وقت بین الاقوامی صورتحال افراتفری کا شکار ہے اور بنی نوع انسان ایک نئے دوراہے پر ہے ۔ اس صورتحال کے پیش نظر تہذیبوں کے اختلافات کو تہذیبوں کے درمیان تبادلوں کے ذریعے دور کرنا ضروری ہے۔شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین مساوات، باہمی سیکھ، مکالمے اور اشتراک کے تہذیبی تصور کو برقرار رکھنے،
گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کو نافذ کرنے، تہذیبوں کے درمیان مکالمے اور تعاون کے عالمی نیٹ ورک کی تعمیر کو فروغ دینے اور انسانی تہذیب کی ترقی اور عالمی امن و ترقی میں نئی تحریک پیدا کرنے کے لئے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے۔انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ تمام شرکاء تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہوئَے تمام ممالک کے درمیان باہمی افہام و تفہیم اور مختلف تہذیبوں کی ہم آہنگی میں دانشمندانہ اور بھرپور کردار ادا کریں گے ۔عالمی تہذیبوں کے مکالمے پر وزارتی کانفرنس کا آغاز 10 جولائی کو بیجنگ میں ہوا جس میں 140 ممالک اور خطوں کے 600 سے زائد چینی اور غیر ملکی مہمان “انسانی تہذیبی تنوع کے تحفظ اور عالمی امن و ترقی کو مشترکہ طور پر فروغ دینے”کے موضوع پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکتنی ہی’’مشقیں‘‘ کی جائیں، “تائیوان کی علیحدگی” ناکام ہوگی، چینی ریاستی کونسل اگلی خبربلوچستان میں پھر دہشتگردی، پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 مسافر شناخت کے بعد قتل پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس ریکارڈ سطح پر، ڈالر سستا ہوگیا چین کا14واں پانچ سالہ منصوبہ : معدنیات کی دریافت کا ہدف قبل از وقت مکمل برکس تعاون اقتصادی ترقی کا نیا وسیع میدان کھولے گا ، چینی وزارت خارجہ سالانہ 250 ارب روپے کی بجلی چوری ہو رہی ہے، وفاقی وزیر توانائی کا قائمہ کمیٹی میں انکشاف زرعی ترقیاتی بینک کا قرض داروں سے 9 ارب روپے وصول نہ کرنے کا انکشاف چینی کی بڑھتی قیمت پر قابو کیلئے حکومت کا 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا حتمی فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کے وژنری اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔ ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔