اداکارہ اور ماڈل حمیرا ایک ماہر مصورہ اور مجسمہ ساز بھی تھیں ان کا اپنے والد کا بنایا گیا رنگین اسکیچ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

اداکارہ حمیرا اصغر کی اندوہناک موت کے بعد ان کی کئی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہورہی ہیں جن سے ان کی صلاحیتوں کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

ایسی ہی ایک وائرل پوسٹ میں وہ اپنے ہاتھوں بنائی ہوئی والد کی پینٹنگ شیئر کر رہی ہیں جس کے کیپشن میں اداکارہ نے اپنے والد کو دنیا کا ہینڈسم والد قرار دیا۔

بہت کم لوگوں کے علم میں ہے کہ حمیرا نے ڈرائنگ اور آرٹس میں لاہور کے ایک بہترین تعلیمی ادارے سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔

حمیرا کو بچپن سے ہی ڈرائنگ بنانے کا شوق تھا اور ان کی اس صلاحیت کو ٹیچر نے بھی بھانپ لیا تھا۔

اسکول ٹیچرز نے حمیرا کے والدین کو کہا تھا کہ اسے ڈرائنگ اور آرٹس کی تعلیم دلوایے گا۔ اس میں فطری آرٹس کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔

فنون لطیفہ سے اسی محبت کے باعث حمیرا لاہور سے کراچی منتقل ہوگئی تھیں وہ 2018 سے ڈیفنس کے ایک فلیٹ میں کرائے پر رہ رہی تھیں۔

 

تین روز قبل جب مالک مکان کی درخواست پر عدالتی بیلف فلیٹ خالی کروانے پہنچا تو وہاں ان کا سامنا اداکارہ کی 8 سے 10 ماہ پرانی گلی سڑی لاش سے ہوا۔

ابتدائی طور پر حمیرا کے والد نے لاش لینے سے انکار کردیا تاہم بعد ان کے بہنوئی اور بھائی نے کراچی آکر لاش وصول کی اور آج لاہور میں تدفین کردی گئی۔

  

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • رام چرن کا ہمشکل جنونی مداح جھانوی کپور پر جھپٹ پڑا، ویڈیو وائرل
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • اداکارہ میرب علی کو اچانک سرجری کیوں کروانا پڑی؟ اصل وجہ سامنے آگئی
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ