کراچی میں سرکاری دفتر سے جنگ عظیم دوم کی یادگار سمیت قیمتی شیلڈز اور اشیا چوری
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ڈائریکٹر جنرل پارکس کے آفس میں چوری کی واردات ہوئی جس میں نامعلوم چور دوسری جنگ عظیم کی شیلڈ سمیت قیمتی اشیا لے اڑے۔
تفصیلات کے مطابق کے ایم سی فریئر ہال میں واقع ڈی جی پارک کے مرکزی دفتر میں محروم الحرام کی چھٹیوں کے دوران چوری کی واردات پوئی ہے۔
چور کھڑکی توڑ کر دفتر میں داخل ہوئے اور جنگ عظیم کی شیلڈ، نلکوں سمیت ڈی وی ڈی پلیئر لے گئے۔
ڈی جی پارکس کے مطابق محرم الحرام کے پیش نظر دفتر 4 جولائی بند کیا گیا اور پھر 7 جولائی کو کھولا گیا ، واپسی پر دفتر کی پچھلی کھڑکی ٹوٹی ہوئی تھی۔
چوری کے واقعے کا مقدمہ ڈی جی پارکس کے افسر زوہیب گل کی مدعیت میں نے آرٹلری میدان تھانے میں درج کرایا دیا ہے تاہم چوری کی واردات کے بعد کے ایم سی دفتر کی سکیورٹی پر سوالیہ نشان اٹھ گئے ہیں۔
دوسری جانب مئیرکراچی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
بھارتی ریاست کیرالہ(Kerala) سے ایک غیر معمولی اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شخص کو سرکاری نوکری کا تقرری نامہ امتحان دینے کے 21 سال بعد جاری کیا گیا، تاہم اس وقت تک وہ عمر کی قانونی حد عبور کر چکا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالمجید نے 2005 میں جونیئر عربی ٹیچر کی آسامی کے لیے امتحان دیا تھا۔ وہ اس امتحان میں کامیاب امیدواروں کی فہرست میں بھی شامل تھے، تاہم اس وقت انہیں تقرری نہیں مل سکی۔ سرکاری فہرست کی مدت تین سال تھی جو 2008 میں ختم ہو گئی، مگر اس دوران خالی آسامی کو پر نہیں کیا جا سکا۔
طویل عرصے تک معاملہ التوا میں رہنے کے بعد 24 اپریل 2026 کو اچانک عبدالمجید کو تقرری نامہ جاری کر دیا گیا۔ لیکن چونکہ اس وقت تک ان کی عمر 60 سال ہو چکی تھی، اس لیے وہ سرکاری ملازمت کے لیے قانونی طور پر اہل نہیں رہے اور ملازمت سنبھال نہیں سکے۔
یہ صورتحال نہ صرف ایک فرد کے لیے مایوسی کا باعث بنی بلکہ سرکاری نظام کی سست روی اور انتظامی تاخیر پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عبدالمجید کا کہنا ہے کہ اگر انہیں بروقت تقرری مل جاتی تو وہ برسوں پہلے اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہوتے اور ان کا کیریئر مختلف ہوتا۔
مزیدپڑھیں:فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
مزید دلچسپ اور متنازع پہلو اس وقت سامنے آیا جب ان کے تعلیمی ریکارڈ میں تاریخ پیدائش 27 مئی 1966 درج ہے، جبکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی اصل تاریخ پیدائش 27 مئی 1967 ہے۔ ان کے مطابق اگر سرکاری ریکارڈ میں ایک سال کی درستگی کر دی جائے تو وہ اب بھی ملازمت کے اہل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس حوالے سے ریاستی وزیر تعلیم اور قانونی ماہرین کو باضابطہ درخواستیں بھی جمع کروائی ہیں، جن میں انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے سرکاری نظام میں طویل تاخیر اور انتظامی ناکامی پر تنقید کی ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے متاثرہ شخص سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔