باقاعدگی سے میک اپ کرنیوالی خواتین کس خطرناک بیماری میں مبتلا ہوسکتی ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ وہ خواتین جو باقاعدگی سے میک اپ کرتی ہیں ان کے بعد کی عمر میں دمے کے مرض میں مبتلا ہونے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
امریکا کے نیشنل ہارٹ، لنگ اینڈ بلڈ انسٹیٹیوٹ میں کی جانے والی تحقیق میں لِپ اسٹک، آئی شیڈو اور مسکارا جیسی میک اپ کی اشیاء اور زندگی کے بعد کے حصے میں سامنے آنے والی دمے کی علامات کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔
تقریباً 40 ہزار افراد پر کی جانے والی تحقیق میں معلوم ہوا کہ وہ خواتین جو نقلی ناخن، کیوٹکل کریم، بلش اور لپ اسٹک کا استعمال کرتی تھیں ان کے دمے میں مبتلا ہونے کے امکانات 47 فی صد زیادہ تھے۔
صرف بلش اور لپ اسٹک کا ہفتے میں پانچ یا پانچ سے زیادہ بار کا استعمال بیماری کے خطرات میں 18 فی صد تک کا اضافہ سامنے آیا۔
محققین کا کہنا تھا کہ اس تعلق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان اشیاء سے خطرات میں اضافہ ہوا بلکہ ان پروڈکٹس میں استعمال ہونے والے ایک جیسے کیمیکل اس کا سبب ہوسکتے ہیں۔
جرنل انوائرنمنٹ انٹرنیشنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں 12 برس سے زیادہ عرصے تک حاصل کیا گیا ڈیٹا استعمال میں لایا گیا جو کہ 41 مختلف بیوٹی پراڈکٹس کے استعمال پر مشتمل تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔