Islam Times:
2026-06-03@04:05:26 GMT

غزہ میں غذائی قلت سے ہونے والی اموات ظلم ہے، صدر اوباما

اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT

غزہ میں غذائی قلت سے ہونے والی اموات ظلم ہے، صدر اوباما

سابق امریکی صدرباراک اوباما نے کہا کہ امداد کو غزہ کے لوگوں تک پہنچنے کی اجازت دی جانی چاہیے، عام شہریوں سے خوراک اور پانی دور رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات کے غذائی قلت سے ہونے والی اموات کو ظلم قرار دے دیا۔ سابق امریکی صدرباراک اوباما نے کہا کہ امداد کو غزہ کے لوگوں تک پہنچنے کی اجازت دی جانی چاہیے، عام شہریوں سے خوراک اور پانی دور رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ باراک اوباما نے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں بھوک کے بحران کی اطلاعات فوری اقدامات کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔ امریکا کے سابق صدر کا کہنا تھا غزہ کے بحران کے دیرپا حل میں  تمام یرغمالیوں کی واپسی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔ 

دوسری جانب بین الاقوامی امدادی تنظم آکسفیم نے کہا کہ چند ٹرکوں کی امداد مہینوں سے غزہ پر جان بوجھ کر مسلط کی گئی بھوک کا ازالہ نہیں کر سکتی۔ آکسفیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی انسانی امداد میں معمولی نرمی مہینوں کی مکمل پابندیوں سے ہوئے نقصان کا مداوا نہیں کر سکتی، مکمل، بلا رکاوٹ اور محفوظ امداد کی فراہمی کے لیے غزہ کی تمام کراسنگ فوری طور پر کھولی جائیں۔ بین الاقوامی فلاحی تنظیم نے کہا کہ مستقل جنگ بندی سے کم کسی بھی اقدام سے غزہ کا اصل مسئلہ حل نہیں ہو گا۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اوباما نے نے کہا کہ

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں