اسلام آباد میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے نالوں، گرین بیلٹس اور دیگر سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد نہ بارش سے محفوظ نہ ڈکیتوں سے، اس شہر کو کس کی نظر لگ گئی؟

حکام کے مطابق، تجاوزات کے خاتمے کے لیے دی گئی 24 گھنٹے کی مہلت ختم ہونے کے بعد، سی ڈی اے، اسلام آباد انتظامیہ اور ضلعی اداروں نے مشترکہ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

خطرناک عمارات کی فوری سیلنگ کا فیصلہ

چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت ہونے والے حالیہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نالوں کے اطراف تعمیر کی گئی تمام رہائشی و کمرشل عمارات، جو بغیر نقشے، این او سی یا قانونی منظوری کے قائم کی گئی ہیں، انہیں خطرناک قرار دے کر فوری طور پر سیل کر دیا جائے گا۔

یہ اقدام مون سون کے دوران ممکنہ طغیانی کے خطرے کے تناظر میں ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

قانونی ضوابط کی خلاف ورزی برداشت نہیں ہوگی

سی ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ پبلک نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ ماسٹر پلان، زوننگ ریگولیشنز 1992، بلڈنگ بائی لاز، انفورسمنٹ ریگولیشنز 2020، اور لینڈ کنٹرول رولز 2023 کے تحت سرکاری نالوں اور زمینوں پر کسی بھی قسم کی تعمیر غیر قانونی اور ناقابل قبول ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایسی تجاوزات نہ صرف آبی گزرگاہوں میں رکاوٹ بنتی ہیں بلکہ جانی و مالی نقصانات کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔

سیکٹر ای الیون میں کارروائی کا آغاز

سی ڈی اے کے ترجمان، نوازش علی عاصم کے مطابق، تجاوزات کے خاتمے کے لیے شہریوں کو 24 گھنٹے کا نوٹس دیا گیا تھا تاکہ وہ از خود غیر قانونی عمارات گرا دیں۔ تاہم، مقررہ مہلت کے بعد متعلقہ اداروں نے انہدامی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کا آغاز سیکٹر ای الیون کی غیر قانونی تعمیرات سے کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری، متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات

انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد کے تمام علاقوں میں مرحلہ وار کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔

جعلی ملکیت پر فوجداری مقدمات ہوں گے

ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے کارروائی کے دوران مزاحمت کی، جعلی دستاویزات پیش کیں یا جھوٹی ملکیت ظاہر کی، تو اس کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔

زمینوں کی دوبارہ قبضہ بازی روکنے کے لیے جدید نظام

چیئرمین سی ڈی اے نے اجلاس میں بتایا کہ واگزار کرائی گئی زمینوں پر دوبارہ قبضے روکنے کے لیے ڈرون فوٹیجز، گوگل ارتھ اور دیگر جدید ذرائع پر مبنی نگرانی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ شہری سہولت کے لیے زمین کے ریکارڈ، این او سی سسٹم، اور نقشہ جات کی منظوری کے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔

شہریوں کے لیے انتباہ

سی ڈی اے نے شہریوں کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ وہ نالوں اور گرین بیلٹس پر قائم کسی بھی قسم کی تجاوزات کو فوری طور پر ختم کر دیں، بصورت دیگر نہ صرف مالی نقصان کا سامنا ہو گا بلکہ قانونی کارروائی کی پوری ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہو گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام اباد بارش برساتی نالے سرکاری زمین سی ڈی اے نالے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام اباد برساتی نالے سرکاری زمین سی ڈی اے نالے اسلام آباد سی ڈی اے کر دیا کے لیے

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار