شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی مفاہمت کی کوششیں مسترد کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بااثر بہن کم یو جونگ نے پیر کو کہا ہے کہ پیونگ یانگ کو جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کی حکومت کی طرف سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شمالی کوریا کی یوکرین جنگ میں روس کو بھرپور حمایت اعلان لاوروف کی کم جونگ اُن سے ملاقات
یہ بیان جنوبی کوریا کے نئے صدر لی جے میونگ کے بارے میں شمالی کوریا کا پہلا سرکاری ردِعمل ہے، جو جون میں اُس وقت صدر منتخب ہوئے جب سابق صدر یون سوک یول کو مارشل لا کے ایک ناکام منصوبے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
کم یو جونگ نے سرکاری خبر رساں ادارے کورین سنٹرل نیوز ایجنسی (KCNA) کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ جمہوریہ کوریا (جنوبی کوریا) میں کون صدر منتخب ہوتا ہے یا کیا پالیسی اپنائی جا رہی ہے، اسی لیے ہم نے اس پر اب تک کوئی رائے قائم نہیں کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی کوریا اور امریکا کے درمیان جاری فوجی تعلقات کی موجودگی میں کسی بھی مفاہمتی کوشش کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔
یہ بھی پڑھیں:شمالی کوریا کے ہزاروں فوجی روس کیوں بھیجے گئے؟
انہوں نے کہا کہ جب ہم صرف لی جے میونگ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کے 50 دنوں پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو ان کی امریکا-جنوبی کوریا اتحاد پر اندھی وابستگی اور شمالی کوریا سے مخاصمت کا رویہ، ان کے پیش رو جیسا ہی لگتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ چاہے سیئول میں کوئی بھی پالیسی اپنائی جائے یا کوئی بھی تجویز دی جائے، ہمیں اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ نہ ملاقات کی کوئی وجہ ہے، نہ کوئی موضوع گفتگو۔
یار رہے کہ جنوبی کوریا کے نو منتخب صدر لی جے میونگ نے بین الکوریائی تعلقات بہتر بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا، جو 2018–2019 کے سفارتی پیشرفت کے بعد حالیہ برسوں میں شدید کشیدہ ہو چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا جنوبی کوریا شمالی کوریا صدر لی جے میونگ کم جونگ کم یو جونگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا جنوبی کوریا شمالی کوریا صدر لی جے میونگ کم یو جونگ صدر لی جے میونگ جنوبی کوریا شمالی کوریا کوریا کے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.