شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بااثر بہن کم یو جونگ نے پیر کو کہا ہے کہ پیونگ یانگ کو جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کی حکومت کی طرف سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شمالی کوریا کی یوکرین جنگ میں روس کو بھرپور حمایت اعلان لاوروف کی کم جونگ اُن سے ملاقات

یہ بیان جنوبی کوریا کے نئے صدر لی جے میونگ کے بارے میں شمالی کوریا کا پہلا سرکاری ردِعمل ہے، جو جون میں اُس وقت صدر منتخب ہوئے جب سابق صدر یون سوک یول کو مارشل لا کے ایک ناکام منصوبے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

کم یو جونگ نے سرکاری خبر رساں ادارے کورین سنٹرل نیوز ایجنسی (KCNA) کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ جمہوریہ کوریا (جنوبی کوریا) میں کون صدر منتخب ہوتا ہے یا کیا پالیسی اپنائی جا رہی ہے، اسی لیے ہم نے اس پر اب تک کوئی رائے قائم نہیں کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی کوریا اور امریکا کے درمیان جاری فوجی تعلقات کی موجودگی میں کسی بھی مفاہمتی کوشش کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔

یہ بھی پڑھیں:شمالی کوریا کے ہزاروں فوجی روس کیوں بھیجے گئے؟

انہوں نے کہا کہ جب ہم صرف لی جے میونگ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کے 50 دنوں پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو ان کی امریکا-جنوبی کوریا اتحاد پر اندھی وابستگی اور شمالی کوریا سے مخاصمت کا رویہ، ان کے پیش رو جیسا ہی لگتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ چاہے سیئول میں کوئی بھی پالیسی اپنائی جائے یا کوئی بھی تجویز دی جائے، ہمیں اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ نہ ملاقات کی کوئی وجہ ہے، نہ کوئی موضوع گفتگو۔

یار رہے کہ جنوبی کوریا کے نو منتخب صدر لی جے میونگ نے بین الکوریائی تعلقات بہتر بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا، جو 2018–2019 کے سفارتی پیشرفت کے بعد حالیہ برسوں میں شدید کشیدہ ہو چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا جنوبی کوریا شمالی کوریا صدر لی جے میونگ کم جونگ کم یو جونگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا جنوبی کوریا شمالی کوریا صدر لی جے میونگ کم یو جونگ صدر لی جے میونگ جنوبی کوریا شمالی کوریا کوریا کے

پڑھیں:

دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو

اسکردو میں پی پی پی کے جلسے سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری(bilawal bhutto zardari) نے کہا کہ پچھلے الیکشن میں گلگت بلتستان کا دورہ کیا، جی بی کے اضلاع میں جتنا میں آیا ہوں اتنا کوئی اور سیاستدان نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں خامنہ ای کو شہید کیا گیا، ان حالات میں یہاں انتخابی مہم چلانا مناسب نہیں سمجھا۔

پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔ امن کوششیں کامیاب ہونا ضروری ہے، ایران کے ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پسماندہ طبقے کی نمائندگی کرنے والی واحد سیاسی جماعت ہے، یہ کیسی معاشی پالیسی اور ترقی ہے کہ امیر، امیر تر ہو۔

بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اسلام آباد کا وہ واحد ادارہ ہے، جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی، بجٹ میں وزیراعظم بی آئی ایس پی کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

مزید پڑھیں: کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

پی پی چیئرمین نے کہا کہ ایٹم بم ذوالفقار بھٹو اور میزائل ٹیکنالوجی شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے دی، جی بی کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا، جی بی کو نام صدر زرداری نے دیا۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار