پختونخوا میں دہشتگردوں پر ڈرون کے ذریعے حملہ، بم نصب کرنے کی کوشش ناکام
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
ذرائع کے مطابق فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں نے سڑک پر بم نصب کرنے کی کوشش کی، تاہم فوری اطلاع ملتے ہی پولیس اور فورسز نے مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے علاقے کا گھیراؤ کر لیا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا پولیس نے دہشت گردوں پر ڈرون کے ذریعے حملہ کرکے بم نصب کرنے کی کوشش ناکام بنادی۔ تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کے علاقے نورڑ میں دہشتگردوں کی جانب سے سڑک کنارے آئی ای ڈی (بم) نصب کرنے کی کوشش کو پولیس اور سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں نے سڑک پر بم نصب کرنے کی کوشش کی، تاہم فوری اطلاع ملتے ہی پولیس اور فورسز نے مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے علاقے کا گھیراؤ کر لیا۔ کارروائی کے دوران پولیس نے ڈرون کے ذریعے دہشتگردوں کو نشانہ بنایا، جس سے ان کے مذموم عزائم خاک میں مل گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دہشتگردوں کو جانی نقصان پہنچا ہے، جبکہ علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کر دیا گیا ہے۔
ڈی پی او بنوں سلیم عباس کلاچی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنوں پولیس ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت الرٹ ہے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اور دہشتگرد عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی سے ممکنہ بڑا سانحہ ٹل گیا اور علاقہ ایک بڑے خطرے سے محفوظ رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بم نصب کرنے کی کوشش پولیس اور کرتے ہوئے کے مطابق
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔