فاطمہ بھٹو کے ساتھ مل کر نئی سیاسی جماعت قائم کرکے لیاری سے الیکشن لڑوں گا، ذوالفقار بھٹو جونیئر
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے عندیہ دیا ہے کہ وہ لیاری سے انتخابات میں حصہ لیں گے اور فاطمہ بھٹو کے ساتھ مل کر نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کریں گے۔
کراچی کے علاقے 70 کلفٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ لیاری کے عوام سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں قریباً 150 عمارتیں سیل کی جا چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آج بغدادی واقعے کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یہاں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ذوالفقار بھٹو جونیئر کا نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان، نیا نعرہ بھی دے دیا
انہوں نے مطالبہ کیاکہ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت متاثرین کو فوری طور پر رہائش فراہم کرے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم پارٹی کے نام پر غور کررہے ہیں، موقع ملا تو لیاری سے الیکشن لڑوں گا۔ لیاری کے عوام نے پیپلزپارٹی کو ووٹ دیا، مگر آج کے لیاری کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے کہاکہ لیاری میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں، انہیں ایل ڈی اے کی اسکیم 42 میں جگہ دی جانی چاہیے۔ اگر آپ شاہراہ بھٹو بنا سکتے ہیں تو لیاری کے لوگوں کو گھر کیوں نہیں دے سکتے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اسٹیبلشمنٹ کی کوئی پشت پناہی حاصل نہیں، میں اپنے بل بوتے پر آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
انہوں نے اعلان کیاکہ فاطمہ بھٹو جلد پاکستان آئیں گی، اور وہ ان کے ساتھ مل کر نئی جماعت کا باضابطہ اعلان کریں گے، جبکہ یوتھ ونگ بھی ہمارے ساتھ ہوگا۔
ذوالفقار جونیئر نے کہاکہ ہم عوامی ترقی کو واپس لائیں گے، مگر ایسی ترقی نہیں جیسے شاہراہ بھٹو جیسی نمائشی منصوبے۔ ہم ملک کے ہر صوبے کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر وڈیرہ ایک جیسا نہیں ہوتا، میں خود بھی ایک وڈیرہ ہوں، مگر آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔ آئین کا تحفظ ضروری ہے اور اسے اصل شکل میں بحال کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ ہم ذوالفقار علی بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو شہید کے نظریات سے منحرف نہیں ہو رہے۔
ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کا کہنا تھا کہ بھٹو صاحب نے لیاری کے لیے ماسٹر پلان بنایا تھا، وہ لیاری کو پیرس بنانا چاہتے تھے، ہم پیرس کی کاپی تو نہیں کریں گے مگر لیاری کو خوبصورت ضرور بنائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ زرداری لیگ اور پی ٹی آئی کے نمائندے اقتدار میں آ کر صرف لوٹ مار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سماجی کاموں سے سیاست میں قدم رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو جونئیر کون ہیں؟
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ترقی عوام کے فائدے کے لیے نہیں بلکہ عوام کے اوپر کی جاتی ہے۔ ہم نوجوانوں کی طاقت سے اس فرسودہ نظام کو بدل سکتے ہیں۔ پیپلزپارٹی ہائی جیک ہو چکی ہے، زرداری لیگ کو مسترد کرتے ہیں۔ اب کی پیپلزپارٹی وہ نہیں جو ذوالفقار علی بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو کی تھی، زرداری لیگ میں تو تصور سے زیادہ کرپشن ہورہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آصف زرداری انتخابات ذوالفقار بھٹو جونیئر فاطمہ بھٹو لیاری نئی سیاسی جماعت وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتخابات ذوالفقار بھٹو جونیئر فاطمہ بھٹو لیاری نئی سیاسی جماعت وی نیوز ذوالفقار علی بھٹو نئی سیاسی جماعت بھٹو جونیئر کہنا تھا کہ فاطمہ بھٹو لیاری کے نے کہاکہ انہوں نے کریں گے کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔